پاکستان نے دنیا بھر سے سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے اپنی ویزا نظام میں نرمی کردی، زبردست اعلان کر دیا گیا

  ہفتہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2020  |  23:22

اسلام آباد(آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان نے دنیا بھر سے سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے اپنی ویزا نظام میں نرمی کردی ہے اور بین الاقوامی سیاحوں کو آن لائن ویزا جاری کرنے کے لئے ویزا پورٹل بھی قائم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو بھی پاکستانی شہریوں کے لئے اپنی ویزا پالیسی میں نرمی لانی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر،ڈاکٹر کرسچن ٹرنر نے سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا،جس میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات سمیت


اہم ریاستی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے ویزا مرکز جو اس وقت متحدہ عرب امارات میں ہے کو پاکستان منتقل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ویزا فیس بہت زیادہ ہے اور اس طرح زیادہ ویزا فیسوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔برطانوی ہائی کمشنر نے اسپیکر قومی اسمبلی کو پاکستان سے متعلق ان کی نئی سفری مشورے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اس ملک کو برطانوی سفارت کاروں اور شہریوں کے لئے فیملی اسٹیشن کے طور پر اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سلامتی کی بہتر صورتحال کے پیش نظر سفری ایڈوائزری کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اس فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ مسلح افواج کے ساتھ ساتھ پاکستان کے شہریوں نے ملک میں امن و سلامتی کے حصول کے لئے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بے پناہ قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہئے حکومت پاکستان برطانیہ سمیت اپنے تمام دوست ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانے کا خواہش مند ہے۔ اسد قیصر نے تجویز پیش کی کہ تجارت اور تجارتی ہداف کو حاصل کرنے کہ لیے دونوں ممالک کے پارلیمنٹس میں متعلقہ کمیٹیاں قائم ہیں جو دونوں ملکوں کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے لئے باہمی حکمت عملی وضع کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بریگزٹ برطانیہ کے لیے چیلنجز کے ساتھ ساتھ دوست ممالک بشمول پاکستان کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔اسپیکر نے برطانوی ہائی کمشنر کی پاکستان کی حکومت اور متعلقہ ایجنسیوں کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تعریف قابل ستائس ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ جیسے دوست ممالک کو پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسپیکر نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ دنیا نے بھارت کا ظالمانہ چہرہ اور دنیا کی "نام نہاد" سب سے بڑی جمہوریت میں بڑھتے ہوئے فاشزم کو دیکھا ہے۔ "ہندوتوا" کے نعرے کے تحت،ہندوستانی قیادت اپنے عوام میں نفرت پھیلارہی تھی اور اس کے نتیجے میں ہندوستان میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو خطرہ لاحق ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ کی استعادکارْبڑھانے کے لئے پاکستان میں برطانیہ کے جاری منصوبوں کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ابھی بھی پارلیمنٹیرینز اور پارلیمانی عہدیداروں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے منصوبوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عصر حاضر کے چیلنجر سے نمٹنتے ہوئے بہتر قانون سازی کر سکیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایسے پارلیمانی ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کی ضرورت کی بھی نشاندہی کی تاکہ اس صوبے میں مقننہ ارکان کی اہلیت بھی ان کے ہم منصبوں کے برابر لایا جاسکے۔اسپیکر نے مزید کہا کہ پاکستان کے نوجوان برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں میں ایک بہت بڑی صلاحیت موجود ہے اور اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لئے ضروری مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ برٹش کونسل پاکستان میں بھی اپنے ادارے قائم کرے تاکہ طلباء ، جو معاشی طور برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل نہیں وہ پاکستان سے معیاری اور خصوصی تعلیم حاصل کرسکیں ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر نے اسپیکر قومی اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں یقین دہانی کرائی کے ملاقات کے دوران زیربحث آنے والے تمام امور کو برطانیہ میں متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھائے جائیں گے اور ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا جائے گا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

سرعام پھانسی

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎

مجھے چند سال پہلے اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کے گاﺅں جانے کا اتفاق ہوا‘ یہ پنجاب کے ایک مشہور گاﺅں کے چودھری ہیں‘ میں ان کے مہمان خانے میں ٹھہرا ہوا تھا‘ سردیوں کے دن تھے‘ میں صبح اٹھا تو مہمان خانے کے صحن میں پنچایت ہو رہی تھی‘میں نے کھڑکی کھولی اور کارروائی دیکھنے لگا‘ ....مزید پڑھئے‎