حکومت کی کشتی ڈوبنے کا وقت آگیا، بوٹ کو سیاسی اکھاڑے میں لانے کا کسی کو حق حاصل نہیں،یہی وہ بوٹ ہے جو ایل او سی پر استعمال ہوتاہے، لیگی رہنما کا دھماکہ دار دعویٰ

  پیر‬‮ 20 جنوری‬‮ 2020  |  23:11

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ(ن)راولپنڈی کی سنیئر رہنماو رکن قومی اسمبلی بیگم سیماجیلانی ننے پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شومیں بوٹ لانے پر اپناشدید ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزیر فیصل واؤڈا کو اس طرح کی حرکتوں کی بجائے اپنی توجہ عوامی مسائل کے حل پر صرف کرنی چاہئیے،یہی وہ بوٹ ہے جو سیاچین سمیت ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر استعمال ہوتاہے اسے ٹاک شو میں دیکھا کر اس کی توہین نہ کی جائے،ان کے ا س غیرذمہ درانہ طرز عمل پر جگ ہنسائی ہوئی ہے وہ


فوری طورپر قوم سے معافی مانگتے ہوئے وزارت سے مستعفی ہوجائیں۔انہوں نے کہاکہ کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ بوٹ کو سیاسی اکھاڑے میں لے آئے ہمیں سیاسی اکھاڑے میں قومی اداروں اور مسلح افواج کو نہیں گھسیٹنا چاہئیے،وزیراعظم عمران نیازی سمیت وفاقی و صوبائی وزراء کو چاہئیے کہ وہ عوام کے مسائل پر توجہ دیں، ملک میں لاقانونیت اور مہنگائی کے خاتمے پراپنا کرداراداکریں،عوام نے انہیں اس وجہ سے ووٹ نہیں دیا کہ وہ عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اداروں کی تضحیک کریں۔بیگم سیماجیلانی نے مزید کہاکہ سلیکٹڈ حکومت سے اتحادی تو سنبھالے نہیں جارہے ہیں وہ ملک کیاچلائیں گے، اس وقت ایم کیو ایم سمیت حکومت کے تمام اتحادی حکومت سے علیحدہ ہونے کیلئے بے چین ہیں، حکومت کی کشتی ڈوبنے کا وقت آگیاہے، اسلئے قبل از وقت انتخابات کرواکر عوام کوجمہوری حکومت منتخب کرنے کاموقع دیاجائے۔انہوں نے کہاکہ عمران نیازی تبدیلی اور انقلاب،احتساب کا نعرہ لے کر اقتدار میں آئے،انہوں نے ہرکسی کو روزگارکی فراہمی،ترقی و خوشحالی کے بھی وعدے کئے تھے لیکن اب تبدیلی سرکار کے تمام وعدے جھوٹے ثابت ہوئے،احتساب کی بتی کو ٹرک سمیت دریابرد کردیاگیا ہے کسی کو نہیں چھوڑوں گا،کسی کو این آر نہیں دونگا یہ سب باتیں ہوائی ثابت ہوئی ہیں،تبدیلی محًض نعروں سے رونما نہیں ہوسکتی بلکہ ملک میں حقیقی تبدیلی کیلئے عملی کام کرناپڑتاہے،ملک کوتجربہ گاہ بنانے والوں نے عوام کو مسائل کی بھٹی میں ڈال دیاگیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎