جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جذبہ خیر سگالی! پاکستان نے 20 بھارتی ماہی گیروں کو جیل سے رہا کردیا ،جانتے ہیں تمام اخراجات حکومت کے بجائے کس نے برداشت کئے؟

datetime 5  جنوری‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)پاکستان میں غیر قانونی طور پر داخلے اور سمندری حدود سے بغیر اجازت مچھلیاں پکڑنے کے الزام میں گرفتار 20 بھارتی ماہی گیروں کو ملیر ڈسٹرکٹ جیل لانڈھی سے رہا کر دیا گیا ہے، ان ماہی گیروں کو کل  پیر کو لاہور کے واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

ملیر ڈسٹرکٹ جیل لانڈھی کے سپریٹنڈنٹ اورنگزیب خان کے مطابق لانڈھی جیل میں اس وقت 237 بھارتی ماہی گیر قید تھے۔حکومت پاکستان کے جذبہ خیر سگالی کے تحت جن 20 ماہی گیروں کو رِہا کیا گیا ہے، یہ بھارتی ماہی گیر ایک سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید تھے۔ان کی رہائی کے بعد مزید 217 بھارتی ماہی گیروں کے علاوہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر قیام کے الزام میں گرفتار برمی، افغانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کی بڑی تعداد بھی قید ہے۔اورنگزیب خان کے مطابق کراچی کی ملیر ڈسٹرکٹ جیل لانڈھی میں قید 20 بھارتی ماہی گیروں کو سہہ پہر رہائی کے بعد جیل پولیس کی نگرانی میں ایدھی فائونڈیشن کے تعاون سے کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پہنچا دیا گیا ہے۔جہاں سے انہیں پاکستان بزنس ایکسپریس ٹرین کے ذریعے لاہور روانہ کیا گیا۔ایدھی فائونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے ان ماہی گیروں کو کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پر رخصت کیا جبکہ لاہور ریلوے اسٹیشن سے انہیں جیل سیکورٹی کے عملے کی نگرانی میں ایدھی فائونڈیشن کی مدد سے واہگہ باڈر کے ذریعے پیر 6 جنوری کی دوپہر ایک تقریب میں انہیں بھارتی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ایدھی فائونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی بھارتی ماہی گیروں کو واہگہ بارڈر تک پہنچانے کے اخراجات ان کی فائونڈیشن برداشت کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…