جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

مریم نواز کا لندن جانا کنفرم ؟حکومت کا بیرون ملک نہ بھجوانےکا فیصلہ ، نتیجہ کیا نکلے گا، تہلکہ خیز انکشاف کر دیا گیا

datetime 25  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جاوید چوہدری اپنے کالم ’’ہم آخر کرنا کیا چاہتے ہیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔ہمیں اب فکری مغالطوں سے نکل آنا چاہیے‘ ہمیں اب حقائق کو حقائق مان لینا چاہیے اور حقائق یہ کہتے ہیں عمران خان اپنا پورا زور لگانے کے باوجود میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف اور

آصف علی زرداری کو قید میں نہیں رکھ سکے‘ میاں برادران لندن میں بیٹھے ہیں اور آصف علی زرداری کے لیے ائیر ایمبولینس بک کرائی جا رہی ہے‘ حکومت پندرہ دن سے دعویٰ کر رہی ہے ہم مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے جب کہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے مریم نواز بھی لندن ضرور جائیں گی اور یہ اس وقت تک وہاں رہیں گی جب تک یہ خاموش رہیں گی۔مولانا فضل الرحمن تک محتاط ہیں‘ یہ بھی الیکشن میں دھاندلی کے ذمہ داروں کا نام نہیں لیتے‘ یہ بھی انہیں ”منے کا ابا“ کہتے ہیں‘ ن لیگ کے اپنے ایم این اے اور ایم پی اے حقائق کو ”محکمہ زراعت“ کا نام دیتے ہیں‘احسن اقبال بچے تھے‘ یہ حقائق سے آنکھیں چرا رہے تھے لہٰذا یہ بھی آج شاہد خاقان عباسی بن چکے ہیں‘ عمران خان بھی غلط فہمی کا شکار ہیں‘ ان کو یہ حقیقتیں نظر نہیں آ رہیں‘ یہ جتنی جلد یہ حقیقتیں جان لیں گے ان کے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا ورنہ دوسری صورت میں ہواؤں کا رخ بدلتے دیر نہیں لگے گی بس چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ ہونے کی دیر ہے اور محمودوایاز دونوں برابر ہوجائیں گے۔ عمران خان شایدیہ ساری حقیقتیں مان لین لیکن ان کے باوجود ایک حقیقت اور بھی ہے‘ ہم بدقسمتی سے اس حقیقت کو فراموش کربیٹھے ہیں اور وہ حقیقت ہے معیشت‘ ہمیں جلد یا بدیر ماننا ہوگا ریاستیں طاقت سے نہیں چلتیں‘ معیشت سے چلتی ہیں اور معیشت خوف میں نہیں پنپتی‘ اس کے لیے قانون کی زمین‘ انصاف کی ہوا اور بے خوفی کی روشنی چاہیے ہوتی ہے اور ہم ہر روز اپنے حصے کا سورج‘ اپنے حصے کی ہوا اور اپنے پاؤں کی مٹی برباد کرتے چلے جا رہے ہیں‘ ہم دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں‘ہمارا سفر پاتال کی طرف جاری ہے‘ ہم روز اس کی سپیڈ بھی بڑھا دیتے ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آتی ہم آخر کرنا کیا چاہتے ہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…