جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

وفاقی حکومت کا  بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم وصول کرنے والے 6لاکھ سے کن لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کر لیا گیا ؟تجویز کی توثیق کر دی گئی

datetime 24  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی رقم وصول کرنے والے 6لاکھ سے  لوگوں کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی کابینہ نے  وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی تجویز کی توثیق کر دی ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 51 لاکھ غریب خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

کابینہ کی کمیٹی برائے تخفیف غربت اور سماجی تحفظ نے اجلاس میں بتایا کہ 2010-11 میں پروگرام کے  آغاز پر شادی شدہ خواتین سمیت دو کروڑ 70 لاکھ افراد کو تخفیف غربت کی خاطر رجسٹر کیا گیا تھا۔کابینہ ارکان کو  آگاہ کیا گیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ امداد وصول کرنے والے خاندانوں کی سماجی اور معاشی حالت بہتر ہوئی ہے۔تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی کمیٹی نے بتایا کہ نادرا نے بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت مالی امداد لینے والے خاندانوں کا تجزیہ درج ذیل معلومات کو بنیاد بنا کر کیا ہے۔مالی امداد وصول کرنے والی خواتین یا ان کے شریک حیات کی بیرون ملک سفر کرنے کی تفصیل، ان کے نام پر گاڑیوں کی تفصیل، 6 ماہ کے پی ٹی سی ایل بل کی معلومات(نسبتا 1000 ہر ماہ)، چھ ماہ کا موبائل فون کا خرچ(نسبتاََ 1000 ہر ماہ)۔ایگزیکٹو پروسیسنگ کے ذریعے پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کی معلومات( کنبے کے تین یا اس سے زیادہ افراد)۔ کمیٹی نے بتایا کہ پاکستان میں کم سے کم 625592 افراد پر درج بالا شرائط لاگو ہوتی ہیں۔ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق کنٹرولر جنرل اکاؤنٹ اور نادرا سے بھی امداد لینے والے ان افراد کا بھی پتا چلایا گیا جن کے خاندان کے افراد وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، ریلوے، پاکستان پوسٹ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ملازمت کرتے ہیں۔کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب میں امداد لینے والے ایسے افراد کی معلومات بھی جمع کی جا رہی ہے جو کم سے کم 12 ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں۔تخفیف غربت اور سماجی تحفظ کی کمیٹی کی سربراہ نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں پانچ سو روپے اضافے کا نوٹیفکیشن بھی موصول نہیں ہوا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…