جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے بڑے ڈیم کی تعمیر روکنے کیلئے بنایاگیاگھناؤنا منصوبہ پکڑا گیا،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 1  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) واپڈا نے مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے مشاورتی خدمات کا ٹھیکہ دینے سے متعلق نیب کو بھجوائی جانے والی جھوٹی در خواست اور لاہور ہائی کورٹ میں دائر جھوٹی اور بے بنیاد رٹ پٹیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کر دی۔ درخواست کا مقصد ایسے عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے اُنہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے،

جو اِن جھوٹی شکایات اور بے بنیاد رٹ پٹیشن کے ذریعے پاکستان میں آبی وسائل کی ترقی خصوصاًمہمند ڈیم ہائیڈڈرپاور پراجیکٹ کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی عملدرآمد بنچ کے روبرو دائر کی جانے والی متفرق درخواست میں واپڈا نے عدالت عظمیٰ سے اِس بات کی استدعا کی ہے کہ وہ تحقیقاتی اداروں کو اِس بات کا حکم دے کہ وہ اِن جھوٹی درخواستوں کے پسِ پردہ عناصر کو بے نقاب کریں،جو منصوبے کی تعمیر کے خلاف عدالتوں، نیب اور عملدرآمد کرنے والے اداروں کو غیر ضروری طور پر ملوث کرنا چاہتے ہیں۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مہمند ڈیم پراجیکٹ کے لئے مشاورتی خدمات کا کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے کے خلاف محبوب الہی کے نام سے 21مئی 2019  کو نیب کو ایک شکایت ارسال کی گئی، جس میں استدعا کی گئی کہ قوانین کے برخلاف مذکورہ کنٹریکٹ ایوارڈکرنے پر نیب واپڈا کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔ ساتھ ہی 25 مئی 2019  کو لاہور ہائی کورٹ میں بھی مذکورہ کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے کے لئے رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی۔اِس رٹ پٹیشن کو دائر کرنے کے لئے بھی محبوب الہی کا نام اور شناخت استعمال کی گئی۔درخواست پر نیب نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی چیئرمین نیب کو حکم دیا کہ وہ اِس معاملے کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں۔ واپڈا نے مشاورتی خدمات کا کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے سے متعلق تمام ریکارڈ نیب کو فراہم کردیا، اور واضح کیا کہ کنٹریکٹ تمام متعلقہ قوانین کے مطابق ایوارڈ کیا گیاہے۔دریں اثنا، نیب نے ملتان میں واقع اپنے دفتر اور پولیس کے ذریعے شکایت کنندہ یعنی محبوب الہی سکنہ چوٹی زیریں ضلع ڈیرہ غازی خان کو بھی طلب کیا۔ محبوب الہی نے بتایا کہ نہ تو اِس نے نیب کو کوئی شکایات بھجوائی ہے اور نہ ہی لاہور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…