بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

عمران خان خواہ فیلڈ مارشل ہی کیوں نہ بن جائیں یہ اور ان کی حکومت نہیں بچ سکے گی،وزیراعظم کو ترجمانوں پر وقت برباد کرنے کی بجائے کیا کرنا چاہیے ،دوسری صورت میں کیا ہو سکتا ہے؟مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کر دیا گیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’فیلڈ مارشل عمران خان‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔ہمارے وزیراعظم عمران خان کے لیے لولا ڈی سلوا کی داستان میں بہت سے سبق چھپے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں صدر آصف علی زرداری نے لولا ڈی سلوا کے پروگرام بولسا فیملیا کی طرز پر پاکستان میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا تھا‘ یہ پروگرام نواز شریف کے

دور میں بھی چلتا رہا اور یہ آج بھی چل رہا ہے مگر آپ فرق دیکھیے‘ اس پروگرام نے برازیل میں سات برسوں میں غربت ختم کر دی جب کہ پاکستان میں اس پر اربوں روپے سالانہ خرچ ہونے کے باوجود غربت میں اضافہ ہو رہا ہے‘ کیوں؟۔کیوں کہ ہم نے بولسا فیملیا کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا لہٰذا وزیراعظم لولا ڈی سلوا کا پروگرام منگوائیں‘ خود پڑھیں‘ اپنے لوگوں کو برازیل بھجوائیں اور یہ پروگرام اس کی مکمل روح کے ساتھ نافذ کر دیں‘ یہ پروگرام پاکستان میں بھی تبدیلی لے آئے گا‘ آپ اسی طرح برازیل کا پروگرام ایجوکیشن فار آل اور ہیلتھ فار آل کو لے لیں اور آپ یہ پروگرام بھی جوں کے توں نافذ کر دیں‘ یہ ان شاءاللہ یہاں بھی نتائج دیں گے‘ وزیراعظم کو یہ سمجھنا ہو گا غربت‘ تعلیم اور صحت عوام کے تین بڑے مسئلے ہیں۔۔وزیراعظم اگر صرف ان کو ”فوکس“ کر لیں اور یہ اس کے بعد اپنی توجہ روزگار پر لگا دیں تو یہ قائد اعظم کے بعد پاکستان کے دوسرے بڑے لیڈر بن جائیں گے مگر مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے وزیراعظم فوکس کرنے کی بجائے اپنی ساری صلاحیتیں چھوٹے چھوٹے اور غیر ضروری ایشوز پر ضائع کر دیتے ہیں مثلاً یہ روزانہ حکومتی ترجمانوں کی اڑھائی اڑھائی گھنٹے تربیت کرتے رہتے ہیں‘ یہ بھی ضروری ہے لیکن اگر وکیل کے پاس ملزم کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہو گی تو وکیل خواہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو یا اس کو خواہ کتنی ہی ٹریننگ کیوں نہ دے دی جائے

یہ مقدمہ ہار جائے گا چناں چہ وزیراعظم کو ترجمانوں پر وقت برباد کرنے کی بجائے لولا ڈی سلوا جیسے کام کرنے چاہییں۔یہ کام انہیں ترجمانوں اور سہولت کاروں دونوں کی محتاجی سے نکال دیں گے‘ پھر انہیں چودھری صاحبان اور ایم کیو ایم کی منت بھی نہیں کرنا پڑے گی اور حکومت بچانے کے لیے نواز شریف پر رحم بھی نہیں کھانا پڑے گا‘

وزیراعظم کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی حکومت نے اگر کام نہ کیا‘ یہ اگر عملی طور پر ایکٹو نہ ہوئی تو عمران خان خواہ فیلڈ مارشل ہی کیوں نہ بن جائیں یہ اور ان کی حکومت نہیں بچ سکے گی‘ یہ بھی سیدھے لندن جائیں گے اور باقی زندگی جنرل پرویز مشرف اور میاں نواز شریف کی طرح ہائیڈ پارک میں واک کرتے کرتے بسر کریں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…