حکومت کا گریڈ 1 تا 4،، گریڈ 5 تا15 اور گریڈ 15 سے اوپر کی اسامیوں پر بھرتیوں کیلئے الگ الگ طریقہ کارپر عملدرآمد کا فیصلہ، تفصیلات جاری

  جمعرات‬‮ 21 ‬‮نومبر‬‮ 2019  |  22:16

کراچی (این این آئی) سندھ کابینہ کا اجلاس وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ پلے بارگین /وی آر میں ملوث فلور ملیں اور سندھ حکومت کی بقایاجات کے ڈیفالٹرز اور بند پڑی فلور ملوں اور چکیوں کو گندم کا کوٹہ دینے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیاہے۔صوبائی حکومت نے گندم /آٹے کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے پاسکو سے گندم خرید نے اور فلور ملوں کو سبسڈی ریٹ 3450 روپے فی سو کلو گرام بوری گندم کا کوٹہ جاری کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ کابینہ نے فیصلہ کیا


کہ گندم فعال فلور ملوں کو باڈی فارمولا کے تحت جاری کی جائے گی اور چکیوں کو اسٹون فارمولا کے تحت۔گندم پلے بارگین/وی آر حکومتی بقایاجات کے ڈیفالٹرز اور بند پڑی ملوں /چکیوں کو جاری نہیں کی جائے گی،ڈیفالٹرز کو ان کے بقایاجات کی ادائیگی کے لیے 15دن دیئے گئے ہیں اس کے بعد وہ کوٹہ حاصل کرسکیں گے۔ فعال فلور ملوں کے مالکان کو مل چلانے کے حوالے سے اپنے ملوں کے بجلی کے بل دکھانا ہوں گے۔ ملیں جو کہ اپنا کوٹہ حاصل کریں گی اور نہیں چلے گیں ان پر جرمانہ بشمول حکومت کی جانب سے گندم پر کی جانے والی سبسڈی کی ادائیگی عائد کیاجائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پلے بارگین /وی آر میں ملوث ملوں نے نیب کو 2 ارب روپے ادا کیے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ نیب اتھارٹی کے ساتھ جمع کرائی گئی 2 ارب روپے کی رقم کی واپسی کے لیے رابطہ کریں۔کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ گریڈ 1 تا 4 کی بھرتیاں سلیکشن کمیٹی کے ذریعے کی جائیں گی۔گریڈ 5 تا15 کی بھرتیاں تھرڈ پارٹی کے ذریعے اور گریڈ 15 سے اوپر سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں گی۔ گریڈ 1 تا گریڈ 4 تک مقامی طور پر بھرتیاں سلیکشن کمیٹی جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کے تحت ہو گی جس میں ایس اینڈ جی اے ڈی کا سیکشن افسر اور دیگر متعلقہ افسران بطور رکن ہوں گے۔ڈویژنل سطح پر سلیکشن کے سربراہ کمشنر بطور چیئرمین اور فنانس کا سیکشن آفیسر اس کا رکن اور متعلقہ محکموں کے اراکین اس کا حصہ ہوں گے۔ وزیراعلی سندھ نے چیف سیکریٹری ممتاز شاہ، صوبائی وزیر انرجی امتیاز شیخ، صوبائی وزیر محنت سعید غنی، صوبائی مشیر مرتضی وہاب اور سیکریٹری سروسز کے تحت ایک اعلی اختیاری کمیٹی تشکیل دی جوکہ گریڈ 5 تاگریڈ 15 تک بھرتیوں کے لیے میکنیزم پر کام کر کے اپنی سفارشات 15 دن کے اندر پیش کرے گی۔وزیراعلی سندھ نے محکمہ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اپنی بھرتیاں آئی بی اے کے ذریعے کریں۔سندھ کابینہ نے مشاورت کے بعد سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن،پریزرویشن،کنزرویشن اور مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی اس مقصد کے تحت منظوری دی کہ وہ اپنے موجودہ اور استعداد کو موجودہ اور آنے والی جنریشن کے لیے صوبے کے محفوظ علاقوں میں یقینی بنائیں گے۔کابینہ کی جانب سے پاس کردہ نئے قانون کے تحت وزیر/مشیر یا معاون خصوصی برائے محکمہ وائلڈ لائف کے تحت ایک 9 رکنی کونسل برائے کنزرویشن آف وائلڈ لائف قائم کی گئی ہے۔ کونسل کے فنکشنز میں وائلڈ لائف کے استحکام کے لیے رہنمائی اور وژن دیں گے۔ نئے قانون میں شکار، شوٹنگ، کلنگ،ٹریپنگ،جال اور جنگلی جانوروں کو زہر دینے پر پابندی ہوگی۔ گیم اینیمل کے شکار کو مجوزہ طریقے کار کے تحت ریگولیٹ کیاجائے گا۔ کابینہ نے بل کی منظوری دے کر اس قانون کو پاس ہونے کے لیے اسمبلی کو ریفر کردیا۔کابینہ نے سندھ سسٹین ایبل فاریسٹ مینجمنٹ پالیسی 2019 کی بھی منظوری دی۔ اس پالیسی کے تحت جنگلی وسائل پائیدار بنیادوں پر دیکھ بھال،عوامی آگہی کو فروغ اور شرکت، ادارتی استعداد کار کو مستحکم بنانا اور اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو موبیلائزنگ کرنا شامل کرنا ہے۔کابینہ کو بتایا گیا کہ گورنر سندھ نے سندھ کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(ایس سی ڈی اے) میں ترامیم کے ساتھ واپس کردیاہے کہ اس میں پاکستان میری ٹائم سیکوریٹی کی حدود کے حوالے سے مداخلت ہے۔ قانون میں ترمیم کی گئی ہے جس میں اتھارٹی کو مجاز بنایا گیا ہے کہ وہ ساحلی پٹی میں ترقیاتی کام کرائیں جسے مداخلت نہیں کہاجاسکتا۔ کابینہ نے ایک بار پھر بل کی منظوری دی اور اسے اسمبلی کو ریفر کردیا۔محکمہ ثقافت نے کابینہ کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے اثاثوں کو مختلف شرائط کے تحت تفویض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس میں ایچ آر اور اس کے قرضوں کی قبولیت، ٹورازم انڈونمنٹ فنڈ میں ون ٹائم امداد اورڈیولپڈ املاک سے سالانہ کی بنیاد پر کاروبار سے ہونے والی آمدنی کا 10 فیصد امداد شامل ہے۔ وفاقی حکومت کہتی ہے کہ بہتر املاک کو صوبوں کو لیز کردیا جائے گا اس پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ یہ شرائط 18 ویں آئینی ترمیم کی اسپرٹ کے خلاف ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پی ٹی ڈی سی کا ہاکس بے اور موہن جو دڑو میں خستہ حال موٹیل ٹھٹھہ،سکھر، بھنبھور میں زمین ہے۔ وزیراعلی سندھ نے صوبائی وزیر ثقافت، سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری ثقافت کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی جو کہ ان شرائط کا تجزیہ کرے گی اور اپنی رپورٹ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کریگی۔سندھ بورڈ آف ریونیو (ایس آر بی) کی درخواست پر کابینہ نے موبائل فون سروسز پر13 جون 2018 تا 24 اپریل 2019 کے عرصے کے لیے سندھ سیلز ٹیکس جمع کرنے سے استثنی دینے کا فیصلہ کیا کیوں کہ سپریم کورٹ نے سیلز ٹیکس جمع کرنے کو معطل کردیاتھا۔ اس تاریخ کے بعد ایس آر بی موبائل فون سروسز پر سندھ سیلز ٹیکس جمع کرنے کی مجاز ہوگی۔کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کو موبائل فون سروسز پر سندھ سیلز ٹیکس جمع کرنے کی معطلی کے باعث 10 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ کابینہ نے ہیگ کنونشن آف سول ایسپیکٹ آف انٹرنیشنل چائلڈ ایبڈکشن 1980 پر عملدرآمد کی منظور دی اور اسے فیملی کورٹ کی حدود میں لایا جائے۔کابینہ نے سندھ ہندو میرج(ترمیمی) ایکٹ 2018 کے قواعد کی منظوری دی جس کے تحت شادی کے کیسز کی کا ٹرائیل فیملی کورٹ میں ہوگا۔ کابینہ نے سندھ امپلائز سوشل سیکوریٹی بل 2016 کے قواعد کی بھی منظوری دی۔

موضوعات:

loading...