ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

بدنام ٹارگٹ کلر یوسف عرف ٹھیلے والا کے الزامات،فاروق ستار کا ردعمل سامنے آگیا

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (آن لائن )ایم کیو ایم کے سابق کنوینر فاروق ستار نے بدنام ٹارگٹ کلر یوسف عرف ٹھیلے والا کے الزامات کی تردید کردی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کبھی نائن زیرو کا کیئرٹیکر نہیں رہا‘ نائن زیرو میں کب کون رہتا تھا میرا اس سے تعلق نہیں۔

یہ ذمہ داری عامرخان‘ کنور نوید ‘ انیس قائم خانی کے پاس رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پارٹی کے تنظیمی سیٹ اپ کا کبھی انچارج نہیں رہا، ہمیشہ سیاسی سیٹ اپ کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ میرے خلاف سازش ہورہی ہے جو سامنے آجائے گی تاہم میں سختی سے اس بیان کی تردید کرتا ہوں۔واضح رہے کہ پولیس نے ضلع وسطی سے ایم کیو ایم لندن کے بدنام ٹارگٹ کلر یوسف عرف ٹھیلے والا کو گرفتار کیا ہے جس نے دوران تفتیش 96افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کرلیا ہے جبکہ ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطہ رہا ہے۔ایس ایس پی ضلع وسطی کیپٹن (ر) غلام اظفرمہیسر اور ایس پی زبیرنذیر نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گرفتار ملزم کا ٹارگٹ کلنگ گروپ 43 ٹارگٹ کلر پر مشتمل تھا، ٹارگٹ کلرٹیم نے 2 فوجی جوانوں کو قتل کیا‘گروہ نے پاک فضائیہ، پولیس کے ایک ایک اہلکار کو قتل کیا۔ ملزم 1996 ء میں رینجرز کے ہاتھوں گرفتار‘1997 ء میں رہا ہوا‘ تاہم ایک سال بعد ملزم پیرول پر رہا ہونے کے بعد روپوش ہوگیا تھا‘روپوشی کے دوران ایم کیوایم لندن گروپ ملزم کو پیغامات پہنچاتا تھا۔ گرفتار ٹارگٹ کلر نے دعویٰ کیا ہے کہ فاروق ستار نے نائن زیرو پر کمرہ دے کر ایک ماہ تک مفروری کٹوائی۔ ملزم کا دعویٰ ہے کہ فاروق ستار سے نائن زیرو میں ملاقات ہوتی تھی۔

سیکٹر انچارج خالد صدیقی اور ندیم ماربل نے فاروق ستار سے ملاقات کروائی‘ 90 میں رہائش کا بندوبست فاروق ستار کرواتے تھے۔یوسف عرف ٹھیلے والا نے بتایا کہ قیادت کے کہنے پر قتل کی واردتیں کرتا تھا، ہمیں رہنماؤں سے ہدایات ملتی تھیں تو وارداتیں کرتے تھے جب کہ ٹھیلے پر رکھ کر لاشیں ٹھکانے لگاتا تھا۔دوسری جانب پولیس نے یوسف ٹھیلے والا کو عدالت میں پیش کر کے23 نومبر تک جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے ۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…