بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

اگر نواز شریف واپس نہیں آئے تو شہباز شریف کوگارنٹر ہونے کی وجہ سے کیا کچھ بھگتناپڑے گا؟اٹارنی جنرل انور منصور نے واضح کردیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور نے کہا ہے کہ عدالت نے بانڈ کے علاوہ کابینہ کی تمام باتیں قبول کی ہیں، نواز شریف کے فیصلے سے متعلق اپیل کا فیصلہ کابینہ کرے گی۔ایک انٹرویومیں اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کے بیرون ملک جانے میں بانڈز کی شرط اس لیے رکھی تھی کہ ان سے رقم برآمد ہو سکے۔

انہوں نے کہاکہ عدالت نے بانڈ کے علاوہ کابینہ کے تمام باتیں قبول کی ہیں اور کیس کی سماعت کے دوران بانڈز کا فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی طرف سے جمع کرائے گئے اسٹام پر نواز شریف نے بھی دستخط کیے ہیں یعنی کہ دونوں بھائیوں نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ اگر نواز شریف واپس نہیں آئے تو توہین عدالت کا قانون لاگو ہو گا اور چونکہ شہباز شریف گارنٹر ہیں تو ان کو صادق اور امین کے چارج کے علاوہ دیگر کئی دفعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انور منصور نے کہا کہ ہم نے عدالت سے استدا کی تھی کہ نواز شریف کے کیس کے حوالے سے تمام چیزیں ان کے بیرون ملک جانے سے پہلے طے کر لیں تاہم عدالت نے ان معاملات کو جنوری میں دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے فیصلے کی اپیل کا فیصلہ کابینہ کرے گی۔ انڈرٹیکنگ بنیادی طور پر شہباز شریف کا ہے جس کی نواز شریف نے صرف حمایت کی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی بھی آزاد شخص کے سفر کی اجازت قانون دیتا ہے لیکن کسی بھی مجرم کے بہت سارے حقوق ختم ہو جاتے ہیں جس میں بیرون ملک سفر کا حق بھی شامل ہے۔ عدالت نے نواز شریف کو صرف ایک دفعہ بیرون ملک جا کر علاج کرانے کی ہدایت کی ہے۔ آج اور کل نواز شریف کا نام ای سی ایل میں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے کیس کی فوری سماعت کے لیے جلد درخواست دائر کر دی جائے گی۔ یہ اعتراض بالکل ٹھیک ہے کہ آصف علی زرداری کا کیس یہاں کیوں سنا جا رہا ہے جبکہ ان کا مقدمہ سندھ کا ہے۔ سب کے لیے قانون برابر ہونا چاہیے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…