جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اگر نواز شریف واپس نہیں آئے تو شہباز شریف کوگارنٹر ہونے کی وجہ سے کیا کچھ بھگتناپڑے گا؟اٹارنی جنرل انور منصور نے واضح کردیا

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور نے کہا ہے کہ عدالت نے بانڈ کے علاوہ کابینہ کی تمام باتیں قبول کی ہیں، نواز شریف کے فیصلے سے متعلق اپیل کا فیصلہ کابینہ کرے گی۔ایک انٹرویومیں اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کے بیرون ملک جانے میں بانڈز کی شرط اس لیے رکھی تھی کہ ان سے رقم برآمد ہو سکے۔

انہوں نے کہاکہ عدالت نے بانڈ کے علاوہ کابینہ کے تمام باتیں قبول کی ہیں اور کیس کی سماعت کے دوران بانڈز کا فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی طرف سے جمع کرائے گئے اسٹام پر نواز شریف نے بھی دستخط کیے ہیں یعنی کہ دونوں بھائیوں نے اس پر اتفاق کیا ہے۔ اگر نواز شریف واپس نہیں آئے تو توہین عدالت کا قانون لاگو ہو گا اور چونکہ شہباز شریف گارنٹر ہیں تو ان کو صادق اور امین کے چارج کے علاوہ دیگر کئی دفعات کا سامنا کرنا پڑے گا۔انور منصور نے کہا کہ ہم نے عدالت سے استدا کی تھی کہ نواز شریف کے کیس کے حوالے سے تمام چیزیں ان کے بیرون ملک جانے سے پہلے طے کر لیں تاہم عدالت نے ان معاملات کو جنوری میں دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہم عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے فیصلے کی اپیل کا فیصلہ کابینہ کرے گی۔ انڈرٹیکنگ بنیادی طور پر شہباز شریف کا ہے جس کی نواز شریف نے صرف حمایت کی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی بھی آزاد شخص کے سفر کی اجازت قانون دیتا ہے لیکن کسی بھی مجرم کے بہت سارے حقوق ختم ہو جاتے ہیں جس میں بیرون ملک سفر کا حق بھی شامل ہے۔ عدالت نے نواز شریف کو صرف ایک دفعہ بیرون ملک جا کر علاج کرانے کی ہدایت کی ہے۔ آج اور کل نواز شریف کا نام ای سی ایل میں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے کیس کی فوری سماعت کے لیے جلد درخواست دائر کر دی جائے گی۔ یہ اعتراض بالکل ٹھیک ہے کہ آصف علی زرداری کا کیس یہاں کیوں سنا جا رہا ہے جبکہ ان کا مقدمہ سندھ کا ہے۔ سب کے لیے قانون برابر ہونا چاہیے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…