جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں خطرناک وباء پھیلنے کا خطرہ،بچنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کرناہوگا،ماہرین نے انتباہ کردیا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ متوقع مو سمیاتی انفلوئنزا وائرس سے بچنے کیلئے یہ موزوں وقت ہے او ر اس سے نمٹنے کیلئے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا جبکہ عوام مو سمیاتی انفلوئنزا وائرس سے بچنے کیلئے قبل از وقت ویکسینشن کروالیں، انفلوئنزا وائرس سے بچاؤ کی و یکسین مارکیٹ دستیاب ہے

تما م لو گ اپنے عزیزو اقارب کو مطلع کریں وہ وہ اس موسمیاتی بیماری سے بچاؤ کیلئے  ویکسنیشن ضرور کروائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہر وبائی امراض ڈاکٹر محمد نجیب درانی نے اپنے خیا ل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں متوقع مو سمیاتی انفلوئنزا وائرس سے بچنے اور اس سے نمٹنے کیلئے تما م ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا کیونکہ ہسپتالوں میں ہمارے پاس میڈیکل سٹاف کی کمی کے ساتھ ساتھ حفاظتی سازو سامان کی بھی قلت ہو تی ہے لہذا ہمیں اس موسمیاتی انفلوئزا وائرس سے بچاؤ کیلئے قبل از وقت مکمل تیاری کر نا ہو گی ورنہ ملک بھر میں دسمبر اور جنوری میں اس بیماری کے پھیلاؤ اور مریضوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہو سکتا ہے۔ گزشتہ سال پنجاب اور ملتان میں انفلوئنزا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی جس سے متعدد ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔ ڈاکٹر محمد نجیب درانی کا کہنا تھا کہ کہ یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے کہ 90فیصد کیسز ایسے ہیں جو طبی مداخلت کے بغیر ہی حل ہو جاتے ہیں جیسے فلو،نزلہ،زکام وغیر ہ گھریلو ٹوٹکوں سے ہی حل ہو جاتے ہیں تا ہم کوئی بھی ایسی شکایت ہو تو فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجو ع کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہمیں اپنی کمیونٹی کو آگاہ کرنا چاہیئے کہ موسمیاتی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ہمیں اپنے ہاتھ مکمل طور اچھے طریقے سے دھونے چاہیئے اور ٹشوز کا استعمال کرنا چاہئیے۔ دوسری جانب ہولی فیملی راولپنڈی کے سربراہ برائے شعبہ متعددی امراض ڈاکٹر مجیب کا کہنا ہے کہ انفلوئنزا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینشن کیلئے موزوں وقت اکتوبر اور نومبر کا مہینہ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…