ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

اب حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں،نواز شریف کیا چیز امیگریشن میں دکھاکرملک سے باہر جاسکتے ہیں،اٹارنی جنرل آف پاکستان  کے انکشافات

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) اٹارنی جنرل آف پاکستان   انور منصور خان  نے کہا ہے کہ نواز شریف کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ کا عدالتی آرڈر عبوری آرڈر کہلاتا ہے۔ حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ فیصلے پر حکومت عملدرآمد کرے گی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چارہفتے کے لیے اجازت بہت کروشل ہے، یہ کوئی فائنل آرڈر نہیں ہے، عدالت نے جنوری کی تاریخ طے کی ہے۔

اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس پر عدالت میں دوبارہ تفصیلی بحث ہوگی، عدالت کی جانب سے عارضی طور پر حکم سنایا گیا ہے، فائنل فیصلہ جنوری میں آئے گا، عدالت نے جوحکم دیا اس پرحکومت عملدرآمد کرے گی۔انور منصور خان کا مزید کہنا تھا کہ چارہفتوں کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پرعلاج کرانے کی اجازت دی گئی۔ وفاقی کابینہ جوبھی فیصلہ کرے گی ہم اسی کے مطابق چلیں گے۔  اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ انڈیمنٹی بانڈز سے متعلق فیصلہ حکومت اور وفاقی کابینہ نے کیا تھا اور یہ وہ تحریری فیصلہ آنے کے بعد ہی حکومت کو مشورہ دے سکیں گے۔نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی امیگریشن میں دکھا کر نواز شریف ملک سے باہر جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  جنوری میں کیس کی سماعت ہوگی جب کہ اجازت میں توسیع مختلف شرائط پر بھی ہوسکتی ہے اور اس کے لیے کے لیے عدالت سے رابطہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ میڈیکل رپورٹ کے علاوہ دیگر شرائط  اور پیسیجمع کرانے یا بونڈ پربھی قیام میں توسیع ہوسکتی ہے۔دوسری طرف ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق احمد خان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی بیرون ملک علاج کے لیے درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی۔ درخواست پر مزید سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر قانونی نکات پر بحث ہو گی،

شریف برادران نے عدالت میں تحریری طور پر یقین دہانی کرائی دی ہے، عدالتی ڈرافٹ میں لکھا گیا ہے کہ حکومتی میڈیکل ٹیم سفارتکار کے زریعے نواز شریف کی صحت سے متعلق معلومات لے سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت یہ سمجھتی ہوگی کہ نواز شریف صحت مند ہیں اور صحت مند ہونے کے بعد اگر نواز شریف ملک واپس نہیں آئیں گے تو پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے تو توہین عدالت کی کاروائی کی درخواست دائر کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…