ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

اللہ کا شکر مولوی فضل الرحمن کی لاشیں اٹھانے کی خواہش پوری نہیں ہوئی،یہ لوگ اب کیا کرنا چاہتے ہیں؟ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ اور تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہا ہے کہ اللہ کا شکر ہے کہ مولوی فضل الرحمن کی لاشیں اٹھانے کی خواہش پوری نہیں ہوئی مصیبت ٹلنے پر حکمرانوں کو جہاد کشمیر کا اعلان کرنا چاہیے ربیع الاول کے مقدس مہینے میں

اپنے مفادات کیلئے شاہراؤں کو بند کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلہ میں محافل منعقد نہ کرنے والے یہ لوگ دوسرے مسلمانوں کی محافلِ میلاد میں بھی روکاوٹ پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔مقدس مہینے میں شاہروں کو بند کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔مولوی فضل الرحمن نے کشمیر کاز دفن کرنے کا مشن پورا کر لیا ہے۔ قوم نئے سرے سے کشمیر کیلئے آواز بلند کرے۔مقبوضہ کشمیر کے مسلمان مظلوم و مجبور تو ہیں ہی اب تو ان سے عید میلاد النبی ﷺ منانے کاموقع بھی چھین لیا ہے۔اقوام متحدہ اور او آئی سی کی بے حسی سب پر واضح ہو چکی ہے۔اقوام متحدہ میں کی گئی عمران خان کی تقریر کے بے سود ہونے کے بعد حکومت پاکستان کے پاس کشمیریوں کی عملی مدد نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔استحکام پاکستان کیلئے اعلان جہاد ضروری ہے۔مہا بھارت ایجنڈے کو روکنے کیلئے سخت نظریاتی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔جمیعت علماء ہند کے سربراہ ارشد مدنی کا بابری مسجد کی جگہ مندر بننے کے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے بھارت کے مسلمانوں کے جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔ مسلمانوں کا بابری مسجد کے بارے میں مؤقف کمزور کرنے کی بھارتی سازش۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد دارلعلوم دیوبند کو کروڑں روپے اس مدّمیں دیے گئے تھے اس وقت مسلمانوں کو ایسے نام نہاد لیڈر یہی کہہ رہے تھے۔ آپ صبر کریں ہم سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑیں گے۔ظالمانہ فیصلے پر پھر مسلمانوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر سر تسلیم خم کرنے کے فضائل بیان کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…