ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پی آئی اے نے10 کروڑ 65 لاکھ روپے کا کھانا ضائع کردیا

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)’باکمال لوگ-لاجواب سروس‘ کے دعوے کی حامل پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے نے تین سالوں میں دس کروڑ 65 لاکھ روپے کا کھانا ضائع کرکے مال مفت دل بے رحم کی عملی مثال پیش کردی۔ پی آئی اے کے فلائٹ کچن کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران قومی ایئر لائن کی انتظامیہ نے دس کروڑ 65 لاکھ روپے کا کھانا ضائع کیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ

2013 سے 2015 کے درمیانی عرصے میں سفر کے لیے کل 55 لاکھ 58 ہزار 284 مسافروں نے قومی ایئر لائن کا انتخاب کیا لیکن اسی عرصے کے دوران انتظامیہ نے 60 لاکھ 72 ہزار 839 مسافروں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ فلائٹ کچن کی آڈٹ رپورٹ میں درج ہے کہ ایئرلائن کی انتظامیہ نے مسافروں کی تعداد سے پانچ لاکھ 14 ہزار 554 زائد افراد کے کھانے کے انتظامات کیے جس پر سات کروڑ 25 لاکھ 72 ہزار 526 روپے کی خطیر رقم خرچ ہوئی۔آڈٹ رپورٹ میں ملکی خزانے کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا ذمہ دار پی آئی اے انتظامیہ کی ناقص پالیسی کو قرار دیا گیا ہے۔ پی آئی اے انتظامیہ کو 2016 اور نومبر 2018 میں باقاعدہ طور پرآگاہ کیا گیا تھا لیکن تاحال جوابات نہیں دیے گئے ہیں۔ پاکستان کی قومی ایئر لائن کا شمار ان اداروں میں کیا جاتا ہے جو گزشتہ کافی عرصے سے سالانہ بنیادوں پر بھاری نقصان کا شکار ہورہے ہیں اور جنہیں ہمیشہ مالی امورکی انجام دہی کے لیے سرکاری امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔2018 میں سامنے آنے والی ایک مالیاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ درخشاں روایت کی حامل پی آئی اے کا مالی خسارہ 450 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔2019 میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئرمارشل ارشد ملک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی ایئر لائن کو 431 ارب روپے کی لائبلٹیز اورمجموعی طور پر سالانہ 36 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی بدعنوانیوں کا معاملہ نیب کو بھجوا دیا ہے۔ ادارے کی تباہی کے ذمے داروں کو قابل احتساب بنائیں گے۔ پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ وفاقی وزیر ہوابازی میاں محمد سومرو بھی موجود تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ بر سر اقتدار لوگوں کی ناقص حکمت عملی اورغفلت نے پی آئی اے کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…