ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

بے قابو شوگر سے نواز شریف کے گردے بھی متاثر، اسٹیرائیڈز سمیت کون سی ادویات دی جارہی ہیں؟حکومت نے سابق وزیر اعظم کی صحت سے متعلق تفصیلات جاری کردیں

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) صوبائی وزیر وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ نواز شریف جہاں سے چاہیں علاج کرا سکتے ہیں، ان کی بیماری کی تشخیص ہوگئی، شوگر کنٹرول نہیں ہو رہی، اسٹیرائیڈز سمیت مختلف ادویات دی جا رہی ہیں، ڈاکٹرز کی رپورٹ پر نواز شریف کو ضمانت ملی، بیرون ملک علاج کیلئے وزارت داخلہ کو درخواست دی۔

سرکاری میڈیکل بورڈ نے مسلم لیگ (ن)کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی سفارش کی تھی تاہم وزارت داخلہ نے میڈیکل بورڈ سے مزید تفصیلات طلب کی ہیں،نواز شریف سیاسی حریف رہے لیکن بطور مریض ان کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی،اللہ پاک کی ذات کے علاوہ انسان کو کوئی بھی صحت اور شفاء نہیں دے سکتا۔ان خیالات کا اظہارصوبائی وزیر نے ڈی جی آر ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا روبینہ زاہد اور ڈائریکٹر نیوز جاوید یونس بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے اس موقع پر مزیدکہا کہ نواز شریف ہسپتال سے 6نومبر کو ڈسچارج ہوئے اور ان کی تمام طبی رپورٹس ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سے شیئر کی گئی ہیں۔نواز شریف کے ہر قسم کے درکار شدہ بہترین علاج معالجہ کو یقینی بنایا گیا ہے۔ نواز شریف کے سروسز ہسپتال میں داخلہ کے دوران ان کی واضح طبیعت بارے تمام میڈیا کو مطلع کیا گیا تھا اور بتایا گیا کہ نواز شریف کے علاج معالجہ میں ہمیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔نواز شریف کی بیماری کی بروقت تشخیص کرکے فورا علاج معالجہ شروع کر دیا گیا تھا۔نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد پوری کرنے کے لئے پلیٹ لیٹس دئیے گئے اور کراچی سے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کی خدمات حاصل کی گئیں۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کی ہدایت پر نواز شریف کو سٹیرائیڈز دئیے گئے۔نواز شریف کا شوگر اور بلڈ پریشر لیول قابو میں نہیں آرہا تھا۔نواز شریف کی شوگر کبھی بھی کنٹرول نہیں ہوئی جس کی وجہ سے انسولین کی تعداد بھی بڑھانی پڑی۔نواز شریف نے علاج معالجہ کے بعد ضمانت کے لئے درخواست دی اور عدالت کو ہمارے ڈاکٹرز نے نواز شریف کی حالت بارے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ضمانت ملنے کے تین دن کے بعدبھی نواز شریف اپنی مرضی سے ہسپتال رہے اور چاہتے تھے کہ مریم نواز کی ضمانت کروا کر ساتھ جا سکوں۔

نواز شریف نے گھر جانے کے بعد بیرون ملک علاج معالجہ کی اجازت کے لئے وزارت داخلہ کو درخواست دی اور وزارت داخلہ نے باقاعدہ مراسلہ کے ذریعے ہم سے نواز شریف کی صحت بارے پوچھا تھا۔میڈیکل بورڈ میں وزارت داخلہ نے مراسلہ کے جواب میں کہا کہ نواز شریف کی ڈسچارج سلپ کے ساتھ تمام تفصیلات موجود ہیں۔ وزارت داخلہ نے دوبارہ مراسلہ میں نوازشریف کی صحت کی تفصیلات طلب کی ہیں اور لکھا کہ نواز شریف کو باہر بھیجنے کے بارے آگاہ کیا جائے۔

اس سلسلہ میں گزشتہ رات میڈیکل بورڈ کا دوبارہ اجلاس منعقد ہوا جس میں میڈیکل بورڈ ممبران نواز شریف کو ملک میں کچھ ٹیسٹ دستیاب نہ ہونے پر بیرون ملک بجھوانے کی سفارش کی ہے۔ میڈیکل بورڈ سے پوچھا گیا کہ کون سے ٹیسٹ پاکستان میں دستیاب نہیں ہیں۔آج میڈیکل بورڈ کا دوبارہ اجلاس منعقد ہو گا۔تفصیلات حاصل کرنے کے بعد وزارت صحت پنجاب وزارت داخلہ کو نواز شریف کی صحت کے تفصیلات بارے مراسلہ لکھے گی۔

نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کی تعداد پوری کرنے کے دوران پیچیدگیاں پیدا ہو گئی تھیں۔بے قابو شوگر کی اپنی پیچیدگیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے نواز شریف کے گردے بھی متاثر ہیں۔نواز شریف کی طبی حالت تشویش ناک ہونے کے باعث ڈاکٹرز نے صحت کا خاص خیال رکھا۔نواز شریف میرے سیاسی حریف رہے لیکن بطور مریض ان کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی۔نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل میں بھی 24گھنٹے ایمرجنسی ایمبولینس کی سہولت دی گئی تھی۔نیب کی حراست میں بھی ایمبولینس کی سہولت دستیاب تھی۔پیڈ سکین کے لئے شوگر لیول کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے جو نواز شریف کا نہیں ہے۔گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نواز شریف کی طبیعت بارے نیک خواہشات کا اظہار کیاہے ۔اللہ پاک کی ذات کے علاوہ انسان کو کوئی بھی صحت اور شفاء نہیں دے سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…