ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

 لنگر کے لئے پکا یا گیا شیرا حلوہ کھانے سے 137 افراد کی حالت غیر ہوگئی،متعدد کی حالت تشویش ناک،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

ٹنڈوالہ یار (آن لائن) ٹنڈوالہ یار شہر کی امان اللہ شاہ کالونی میں قائم امام بارگاہ گلشن رضا میں خواتین اور مردوں کی ہونے والی الگ الگ مجلس کے بعد پہلے مرحلے میں خواتین کے لئے نیاز و لنگر کے لئے پکائے جانے والے شیرا حلوہ پہلے خواتین اور بچوں کو تقسیم کیا گیا جس سے کھانے سے خواتین بچوں سمیت 137 افراد کی حالت غیر ہوگئی جن میں خواتین بچوں کی تعداد زیادہ بتائی جاتی ہے

شیرا حلوہ کھاکر حالت غیر ہوکر ہسپتال پہنچنے والوں میں مسمات فوزیہ، حسنین، گلاب، مسمات پروزین، مسمات زروا، مسمات صغرا، مسمات عائشہ، مسمات حبیبہ، مسمات عشیا، مسمات نجمہ، مسمات رخسانہ، مسمات نجمہ کوثر، سمیت 137افراد شامل ہیں جنہیں سول ہسپتال ٹنڈوالہ یار لایا گیا جہاں ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرکے تمام ڈاکٹروں کو طلب کرلیا گیا ہے جبکہ شیرا حلوہ کھانے والوں کی حالت غیر ہونے والوں میں سے 7خواتین بچوں کو تشویش ناک حالت میں حیدرآباد منتقل کردیا گیا اس اطلاع کے بعد مختلف سیاسی سماجی تنظیموں کے رہنماء  کارکنان کی بڑی تعداد رضاکاران طور پر سول ہسپتال ٹنڈوالہ یار پہنچی جبکہ اس اطلاع کے بعد ایس ایس پی ٹنڈوالہ یار رخسار احمد کھاوڑ ڈی ایس پی ٹنڈوالہ یار شاہ نواز میمن پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ سول ہسپتال پہنچے جہاں ایس ایس پی رخسار احمد کھاوڑ نے بتایا کہ ہم تحقیقات کررہے ہیں کہ یہ واقع کس طرح پیش آیا کہ نیاز و لنگر کے شیرے حلوے میں کوئی زہریلی چیز تو نہیں گرگئی یا کوئی اور وجہ ہے جس کے بعد بتایا جاسکتا ہے جسکی تحقیقات کی جائے گی جبکہ شیرا حلوہ کھاکر حالت غیر ہونے والوں کو طبی امدادکے بعد انہیں گھر روانہ کردیا گیا اور اب وہ خطرے سے باہر ہے ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی حالت غیر ہونے کی وجہ کوئی انہوں نے مضر صحت کھانہ کھایا ہے یا پھر اس کھانے میں کوئی زہریلی چیز گڑ گئی ہے جس کی وجہ سے ان کی حالت غیر ہوئی ہے جبکہ آنے والے تمام مریضوں کو الٹی ہونے کے ساتھ ساتھ پیٹ کی بھی تکلیف ہے جنہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…