ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کتنی شدت کا زلزلہ آیا تو کراچی میں قیامت برپا ہوجائیگی؟خبر دار کردیا گیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)عروس البلاد کراچی وقت گزرنے کے ساتھ کنکریٹ کے بے ہنگم جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے جب کہ شہر کے دامن میں سیکڑوں کی تعداد میں واقع کچی آبادیوں میں کئی کئی منزلہ تعمیرات کی بھرمار اوربنیادی قواعد وضوابط سے کھلی روگردانی خطرے کی گھنٹی ہے۔

ماہرین کے مطابق مذکورہ عمارتیں ناقص تعمیرات کی وجہ سے 6.5 شدت کے زلزلے کوبرادشت نہیں کرپائیں گی، اس گھمبیر صورتحال کے باوجود کچی آبادیوں میں غیر معیاری اورناقص تعمیراتی سرگرمیاں دھڑلے سے جاری ہیں۔ سندھ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس مجریہ 1979 کا قانون متعارف کرائے جانے کے باوجود تاحال نہ اس پر عمل درآمدکیاگیا ہے اور نہ ہی ایس بی سی آرڈیننس کی شقوں کے مطابق باقاعدہ تقرریاں کی گئی ہیں۔ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد)نے اس ضمن میں فوری ایکشن پلان ترتیب دیتے ہوئے آگاہی مہم کا آغاز کردیا ہے اور متعلقہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، وزیراعلی سندھ، چیف سیکرٹری سندھ، وزیر بلدیات سندھ کوخطوط ارسال کردیئے ہیں،جن میں یہ واضح کیاگیا ہے کہ ایس بی سی اوکے عدم نفاذ کے سبب کراچی اور صوبے بھر میں غیرقانونی اور غیرمعیاری تعمیرات کے علاوہ کچی آبادیوں میں اضافے کا رحجان غالب ہے اور ان تعمیرکردہ عمارتوں کی زندگی بمشکل 15 سے25سال ہوتی ہے جو خدانخواستہ کسی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اس کی شدت برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتیں جن کی تباہی سے لاکھوں افراد کے لقمہ اجل بن جانے کاخطرہ ہے۔اس ضمن میں آباد کے چئیرمین محسن شیخانی نے بتایاکہ ہر چند روز بعدملک کے کسی نہ کسی علاقے میں زلزلہ آرہاہے جبکہ کراچی زون ٹو میں واقع ہے اور اس شہر میں غیرقانونی تعمیرات اتنی غیرمعیاری ہیں کہ وہ 6.5 شدت کے زلزلے کی صورت میں 10لاکھ سے زائدافراد کو لقمہ اجل بناسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…