ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

’’ دیکھو میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں مگر FIAمیں اعلیٰ پوزیشن پر رہا ہوں‘‘ وہ شخص جو اس وقت کے وزیراعظم کے کہنے پر مستقل رہا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اعلی عہدے پر فائز ہو گیا ، حیرت انگیز انکشافات

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی و کالم نگار مظہر عباس اپنے کالم ’’اور کرپشن جیت گئی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔پھر اس نے مجھے ایک اور قصہ سنا کر حیران کر دیا۔آپ کو یاد ہے ایک صاحب کچھ عرصے کے لئے وزیراعظم بنے تھے۔ وہ باہر سے لائے گئے تھے اور ان کی بڑی شہرت تھی۔ میں نے کہا ہاں، کیوں کیا ہوا تھا۔ اس نے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا وہ کراچی ایئرپورٹ پر آئے تو

سب سے پہلے جس شخص سے گلے ملے اس پر بعد میں نیب کا مقدمہ چلا، سزا ہوئی اور پھر ایک اور وزیراعظم کے کہنے پر پیرول پر مستقل رہائی مل گئی۔ وہ بھی مجھے جیل میں ایسے ہی مشورے دیتا تھا کہ حالات سے سمجھوتا کر لو۔ دیکھو میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں ہوں مگر FIAمیں اعلیٰ پوزیشن پر رہا ہوں۔یہ80کی دہائی کی بات ہے جب ایک صاحب نے ایک جعلی کاروبار کے ذریعے ہزاروں خاندانوں کی برسوں کی کمائی لوٹ لی۔ مجھے آج بھی یاد ہے میں جس اخبار میں ان دنوں کام کرتا تھا اس نے بڑی خبریں دیں کہ یہ فراڈ ہے مگر اس نے بڑے بڑے اشتہارات دے کر منہ بند کر دیئے۔ آج بھی یہ بہترین طریقہ ہے زبان بندی کا۔غرض یہ کہ ایک دن وہ پکڑا گیا مگر کاروبار چلتا رہا۔ وہ جیل سے کورٹ لایا جاتا اور وہاں موجود ایک پک اپ میں بیٹھ کر دھندہ جاری رکھتا۔ تو تمہیں مہران بینک بھی یاد ہوگا۔جی جی یاد ہے۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کو عدالت نے دس سال کی سزا سنائی تھی مگر وہ تین سال میں باہر آ گیا۔ کمال کا فنکار آدمی تھا۔ دبلا پتلا، چھوٹا قد مگر جب اس کے حوالے سے اس وقت کے ہوم سیکریٹری واجد رانا کی وفاقی و صوبائی حکومت کو لکھی جانے والی رپورٹ دیکھی تو میں حیران تھا کس کس طرح اس نے اپنی سزا میں کمی کروائی۔جیسا کہ بیٹھے بٹھائے امتحان پاس کرنا، سانپ نہ ہوتے ہوئے بھی مارنا، حد تو یہ ہے کہ جتنا خون اس کے جسم میں نہیں تھا اتنا خون وہ دے چکا تھا۔ کبھی بلڈ گروپ ایک ہوتا تو کبھی دوسرا۔ یہ سب کاغذی کارروائیاں تھیں۔ ہوم سیکریٹری نے لکھا کہ نہ صرف اس کی سزا بحال کی جائے بلکہ فراڈ کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ اس خط کا نتیجہ یہ ہوا کہ رانا صاحب کا ٹرانسفر اسلام آباد ہو گیا اور وہ جیل سے باہر آ گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…