ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آزادی مارچ،حکومت نے ہاتھ کھڑے کر دئیے، اسلام آباد پولیس بڑی مشکل کا شکار

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے اسلام آباد (کیپٹل) پولیس کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے دوران امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے اور دیگر انتظامات کی مد میں مالی تعاون سے انکار کردیا۔کیپٹل پولیس کی جانب سے حکومت کو انتظامی اخراجات کی مد میں درخواست کی گئی تھی تاہم ایسے قطعی طور پر مسترد کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کیپٹل پولیس مالی سال 20-2019 کے اواخر میں مالی وسائل کی کمی سے دوچار ہوسکتی ہے۔پولیس افسر نے بتایا کیا کہ آزادی مارچ میں انتظامات پرہونے والے اخراجات سے متعلق حکومت کو مالی تعاون کی درخواست دی تھی تاہم وفاق نے مسترد کردی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کے انکار پر اعلیٰ پولیس حکام نے فیصلہ کیا کہ مالی سال 20-2019 کے پولیس بجٹ سے تمام اخراجات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرے گی۔اپوزیشن جماعت کے سربراہ کا اس آزادی مارچ کو منعقد کرنے کا مقصد ‘وزیراعظم’ سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان ‘جعلی انتخابات’ کے ذریعے اقتدار میں آئے۔ان کا کہنا تھا کہ کنٹینل کو رکھنے، دیگر صوبوں سے بلائی جانے والی پولیس اور پیرا ملٹری فورس، ان کے لیے کھانا، عارضی رہائش اور نقل و حرکت کے لیے مالی تعاون کو خرچ کیا جانا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ کیپٹل پولیس نے ابتدائی طور پر دو ہفتوں کے لیے 27کروڑ روپے کے مالی تعاون کا تقاضہ کیا تھا جس کے بعد اسیکم کرکے ایک ہفتےکے لیے 13 کروڑ روپے طلب کیے گئے۔

افسر نے بتایا کہ بعدازاں 3 دن کے لیے 5 کروڑ روپے مانگے گئے لیکن حکومت نے وہ بھی دینے سے انکار کردیے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پولیس کو اپنے وسائل سے مالی ضروریات پوری کرنے پر زور دیا۔ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ پولیس بجٹ میں گاڑیوں اور دیگر سامان خریدنے کے لیے مختص ساڑھے تین کروڑ روپے آزادی مارچ کے دوران پولیس انتظامات پر خرچ کردیے جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…