منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

نواز شریف کو کسی  حکومتی ڈاکٹر کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی،  ان کے ساتھ جوکچھ بھی کیا کس نے کیا؟اعلی عہدے پر فائز اہم شخصیت کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

ٓاسلام آباد(آن لائن) اٹارنی جنرل  آف  پاکستان  انور منصور خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو کسی  حکومتی ڈاکٹر کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، ان کے ساتھ جوکچھ بھی کیا ان کے ذاتی ڈاکٹرز نے کیا،ہم کیسے زندگی اور موت کی گارنٹی دے سکتے ہیں،عدالت جو فیصلہ کرے گی ہم اس  پرمن و عن عمل کریں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا ہے کہ عدالت نے ہمیں شام دو بجے نوٹس دیا اور کہا کہ چار بجے آپ حاضر ہو جائیں،

اس کیس میں ہم نے نہ تو فریق تھے اور نہ ہی ہمارے پاس فائل تھی اور نہ ہمیں پتہ تھا۔ جب چار بجے ہمارے وکیل عدالت پہنچے تو ہمیں کہا گیا کہ آپ یہ بیان حلفی دیں اور گارنٹی دیں کہ نواز شریف کا ادھر انتقال نہیں ہوگا۔ یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ ہم کسی کی زندگی کی گارنٹی دیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیب کا کیس تھا اور وہ ہی اس میں فریق تھا اسلئے انہوں نے ہی جواب دینا تھا اور نیب نے دالت میں جو جواب دیا وہ اپنی جگہ ہے۔ نیب نے کہا کہ نواز شریف ہماری کسٹڈی میں نہیں ہے اسلئے ریاست اس حوالے سے جواب دے اور ترمیم کے تحت پنجاب حکومت نے اس حوالے سے جواب دینا تھا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ عدالت جو فیصلہ کرے گی ہم اس کا احترام کرینگے۔ مگر عدالت بار بار یہ کہا کہ اس کے اندر کوئی گیم ہے آپ جواب دیں لیکن یہ ظاہر ہے کہ زندگی اور موت کی کوئی انسان گارنٹی نہیں دے سکتا۔ اسلئے ہم سب نے واضع طور پر کہا کہ ہم نواز شریف کی زندگی اور موت کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی ہم اس پ رمن و عن عمل کریں گے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف کو کسی گورنمنٹ ڈاکٹر کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی، ان کے اپنے ڈاکٹرز شریف میڈیکل سے آئے تھے اور وہ اپنی مرضی سے علاج کرتے تھے اور نواز شریف سی گورنمنٹ ڈاکٹر کو اپنے علاج کی اجازت نہیں دیتے تھے  اور جو کچھ بھی نواز شریف کے ساتھ کیا ہے وہ ان کے اپنے ڈاکٹرز نے کیا ہے۔

جب ان کے پلیٹ لٹس کم ہوئے تھے تو ان کے ڈاکٹرز کو چاہیے تھا کہ وہ معاملہ کو کنٹرول کرتے، ان کے مکمل ٹیسٹ کرتے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو غلطی ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی ہے۔ اس پر حکومت کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جاسکتا کیونکہ حکومت کو ان کے علاج کی اجازت نہیں تھی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر نواز شریف کو ضمانت مل سکتی ہے تو اس غریب شخص کا کیا قصور ہے جو بیماری سے جیل میں لڑ رہا ہے تو اس کو کیوں ضمانت نہیں دی جاتی۔ خدارا قانون کو اس سطح پر نہ لے جائیں جہاں غریب آدمی بھی اٹھ کر کھڑا ہوجائے۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…