ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

عمران خان کو پانچ سال پورے کرنے دیئے جائیں،جاوید ہاشمی وزیراعظم کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوئے،بڑے دعوے کردیئے

datetime 22  اکتوبر‬‮  2019 |

ملتان(آن لائن) سینئر سیات دان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ بھارت جتنا چاہتا تھا اس سے بڑھ کر نازک حالات سے ہم خود پاکستان کو گزار رہے ہیں۔ملتان میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا سو سالوں پر محیط ہوتا ہے،

بدقسمتی ہمارے ملک میں ایسا نظام رائج ہے کہ یہاں کوئی سیاست دان پیدا نہیں ہو سکتا۔نواز شریف کی اسیری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں احتساب مکمل طور پر انتقام بن چکا ہے، جیل میں سہولتیں پوری دنیا میں ملتی ہیں، مگر یہاں پر تو اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ مریم نواز جس طریقے سے جیل بھگت رہی ہیں کوئی سوچ نہیں سکتا جبکہ میاں نوازشریف زندگی اورموت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔حکومتی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ آج مہنگائی کے پہاڑوں کے نیچے عوام پس رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی مہنگائی مزید بڑھنی ہے اوریہ عوام کو کہتے ہیں ہم کوئی نوکریاں نہیں دیں گے جبکہ اپنے رشتے داروں میں نوکریاں بانٹ رہے ہیں۔آزادی مارچ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان میرے چھوٹے بھائی ہیں، ان کے آزادی مارچ پر سب جماعتیں سوچ بوجھ کے بعد متفق ہوئی ہیں تاہم میں اب بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو پانچ سال تک حکومت کرنے دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…