توانائی کے شعبے میں جاری گردشی قرضوں کے بڑھنے کی رفتار کم ہوگئی، ایکٹو زیر گردش قرضوں کا حجم اب بھی کتنا ہے؟ حیرت انگیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2019  |  19:05

اسلام آباد(آن لائن) توانائی کے شعبے میں جاری گردشی قرضوں کے بڑھنے کی رفتار کم ہوگئی۔ زیر گردش قرضوں میں اضافے کی رفتار میں 50 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاور ڈویڑن نے توانائی کے شعبے میں جاری گردشی قرضوں سے متعلق بتایا کہ گردشی قرضوں میں اضافے کی رفتار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔حکام کے مطابق گردشی قرضے میں ماہانہ 40 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا تاہم اب یہ کم ہو کر 20 ارب روپے رہ گیا ہے۔پاور ڈویڑن کی جانب سے بتایا


گیا کہ ایکٹو زیر گردش قرضوں کا حجم 860 ارب روپے ہے۔ سیکریٹری پاور ڈویڑن نے کمیٹی کو یقینی دہانی کروائی کہ سنہ 2020 تک اس معاملے پر قابو پا لیا جائے گا۔سیکیرٹری کا کہنا تھا کہ مخلتف پاور پلانٹس سے بجلی کی کافی پیداوار حاصل ہوگی، کافی تعداد میں ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل ایک موقع پر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہا تھا کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ 1250 ارب ہے۔ گرمیوں سے پہلے پہلے وولٹیج کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ ملک پر مجموعی قرضہ 29 ہزار ارب روپے ہے، 5 سال پہلے یہ قرضہ 14 ہزار ارب تھا۔ توانائی کے شعبے میں جاری گردشی قرضوں کے بڑھنے کی رفتار کم ہوگئی۔ زیر گردش قرضوں میں اضافے کی رفتار میں 50 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاور ڈویڑن نے توانائی کے شعبے میں جاری گردشی قرضوں سے متعلق بتایا کہ گردشی قرضوں میں اضافے کی رفتار میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔حکام کے مطابق گردشی قرضے میں ماہانہ 40 ارب روپے کا اضافہ ہو رہا تھا تاہم اب یہ کم ہو کر 20 ارب روپے رہ گیا ہے

موضوعات:

loading...