پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

چین،روس اور امریکہ کی سہولت کاری میں پاکستان و افغانستان مل بیٹھ کریہ کام کریں،اسفندیارولی خان نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 19  ستمبر‬‮  2019 |

کابل /پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے دیرینہ گلے شکوے اور بداعتمادی کا خاتمہ ناگزیر ہے، امن مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت امن کی جانب مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابل میں سہہ روزہ عالمی امن کانفرنس سے اپنے خطاب میں کیا، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ گزشتہ چالیس برس سے پختونوں کا خون سرحد کے دونوں جانب بہتا آ رہا ہے،

اب وقت آ چکا ہے کہ اس خون بہا کو روک کر امن و صلح کی جانب بڑھا جائے، انہوں نے کہا کہ تشدد سے نفرت اور رشتوں میں دراڑ جبکہ امن سے محبت کو تقویت ملتی ہے، جس روز افغان صدر امریکی دورہ منسوخ کیا،مزاکراتی عمل میں خطرناک موڑآ گیا تھا،انہوں نے کہا کہ حکومت و ریاست افغانستان کی شرکت کے بغیر امن مذاکرات بے معنی ہیں، اسفندیار ولی خان نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں مل بیٹھ اپنے مسائل حل کریں اور چین روس و امریکہ کو اس دوران سہولت کاری کا کردار ادا کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ چمن سے قندہار تک براستہ ریل تجارت کا آغاز روشن مستقبل کی نوید لائے گی، انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ویزہ پالیسی میں نرمی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کر کے دونوں ملکوں کے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں،اور مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان ویزے کی شرط ختم کی جائے، انہوں نے کہا کہ کابل جلال آباد اور قندہار یونیورسٹیوں کو پشاور،ڈیرہ اسماعیل اور کوئٹہ کی جامعتا سے منسلک کر کے افغان طلباء کیلئے نشستیں مختص کی جائیں، اسفندیار ولی خان نے کانفرنس میں شرکت کرنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خواتیں نے اٹھایا جنہوں نے اپنے گھرانوں کے مردوں کی لاشیں اٹھائیں، آخر میں انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ مذاکراتی عمل افغان حکومت کی سربراہی میں جلد از جلد شروع کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…