منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

چین،روس اور امریکہ کی سہولت کاری میں پاکستان و افغانستان مل بیٹھ کریہ کام کریں،اسفندیارولی خان نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 19  ستمبر‬‮  2019 |

کابل /پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام کیلئے دیرینہ گلے شکوے اور بداعتمادی کا خاتمہ ناگزیر ہے، امن مذاکرات میں افغان حکومت کی شمولیت امن کی جانب مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کابل میں سہہ روزہ عالمی امن کانفرنس سے اپنے خطاب میں کیا، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ گزشتہ چالیس برس سے پختونوں کا خون سرحد کے دونوں جانب بہتا آ رہا ہے،

اب وقت آ چکا ہے کہ اس خون بہا کو روک کر امن و صلح کی جانب بڑھا جائے، انہوں نے کہا کہ تشدد سے نفرت اور رشتوں میں دراڑ جبکہ امن سے محبت کو تقویت ملتی ہے، جس روز افغان صدر امریکی دورہ منسوخ کیا،مزاکراتی عمل میں خطرناک موڑآ گیا تھا،انہوں نے کہا کہ حکومت و ریاست افغانستان کی شرکت کے بغیر امن مذاکرات بے معنی ہیں، اسفندیار ولی خان نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں مل بیٹھ اپنے مسائل حل کریں اور چین روس و امریکہ کو اس دوران سہولت کاری کا کردار ادا کرنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ چمن سے قندہار تک براستہ ریل تجارت کا آغاز روشن مستقبل کی نوید لائے گی، انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان ویزہ پالیسی میں نرمی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کر کے دونوں ملکوں کے لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں،اور مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان ویزے کی شرط ختم کی جائے، انہوں نے کہا کہ کابل جلال آباد اور قندہار یونیورسٹیوں کو پشاور،ڈیرہ اسماعیل اور کوئٹہ کی جامعتا سے منسلک کر کے افغان طلباء کیلئے نشستیں مختص کی جائیں، اسفندیار ولی خان نے کانفرنس میں شرکت کرنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان خواتیں نے اٹھایا جنہوں نے اپنے گھرانوں کے مردوں کی لاشیں اٹھائیں، آخر میں انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ مذاکراتی عمل افغان حکومت کی سربراہی میں جلد از جلد شروع کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…