پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ستمبر 2018 میں پاکستان کا مجموعی قرضہ اور واجبات 300 کھرب روپے تھا جو کہ بڑھ کر اب کتنے کھرب ہوچکاہے؟چونکا دینے والے انکشافات

datetime 16  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)2008 سے 2018 تک کے قرضوں کی تفصیلات انکوائری کمیشن کو مل گئیں جس کے مطابق جی ڈی پی میں 223 فیصد اور غیر ملکی قرضوں میں 106 فیصد جب کہ سرکاری قرضوں میں 307 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے تین ماہ قبل 2008 سے 2018 کے دوران لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لیے 12 رکنی کمیشن تشکیل دیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2008 میں پاکستان کے بیرونی قرضے اور واجبات 46 اعشاریہ 161 ارب ڈالرز تھے جو 2018 میں بڑھ کر 95 اعشاریہ 342ارب ڈالرز تک پہنچ گئے۔اعداد و شمار کے مطابق ان دس برس میں جی ڈی پی میں بھی بڑا اضافہ دیکھنے میں ا?یا جو کہ 23759ارب روپے تھا۔2008 میں جی ڈی پی 10637 ارب روپے تھا جو کہ بڑھ کر 2018 میں 34396 ارب روپے ہوگیا، یعنی 2008 سے 2018کے دوران جی ڈی پی میں 223 اعشاریہ 36 فیصد اضافہ ہوا۔پچھلی حکومت نے جب اپنی مدت پوری کی تھی تو شرح نمو 5 اعشاریہ 8 فیصد تھی۔ 2008 میں ایک ڈالر 68 اعشاریہ 3 روپے کا تھا جب کہ اب ایک ڈالر 156 اعشاریہ 6 روپے کا ہے۔ستمبر 2018 میں پاکستان کا مجموعی قرضہ اور واجبات 300 کھرب روپے تھا جو کہ بڑھ کر 400 کھرب روپے ہوچکا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی ہے کہ بیرونی واجبات میں مرکزی بینک ڈپوزٹس، سواپس، ایس ڈی آر اور مرکزی بینک میں ڈپوزٹ مقامی کرنسی شامل ہیں۔ اجناس آپریشنز میں صوبائی حکومتوں کے بینکوں سے لیے گئے قرضے اور اس مقصد کے لیے پی ایس ایز شامل ہیں۔اسٹیٹ بینک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی ذمہ داری اور قرضہ حدود ایکٹ 2005، جس میں 2017میں ترمیم کی گئی۔حکومت کے مجموعی قرضوں کا مطلب وہ حکومتی قرضے (اس میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں شامل ہیں) جو کہ مستحکم فنڈز کی خدمات سے باہر ہیاور ائی ایم ایف سے لیے گئے قرضے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بینکاری نظام میں جمع کردہ ڈپوزٹ سے کم ہوں۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق قرضوں سے جی ڈی پی شرح اب ستمبر 2018 کی 80 فیصد سے بڑھ کر 104 فیصد ہوچکی ہے۔ انکوائری کمیشن کے سربراہ نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر ہیں، وہ خیبر پختونخوا حکومت کے تقریباً 40کروڑ ڈالرز قرضوں کی بھی تحقیقات کررہے ہیں جو پشاور میٹروکی تعمیر کے لیے لیا گیا تھا جب کہ اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور ملتان میٹرو سسٹم، کمیشن کے دائرہ کار میں نہیں آتے کیوں کہ پنجاب حکومت نے ان پر اپنے وسائل سے پیسہ خرچ کیا تھا۔پی ایس ایز کا قرضہ اب جی ڈی پی کے 5 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ چکا ہے

جب کہ ستمبر 2018 میں یہ جی ڈی پی کا 3 اعشاریہ 5 فیصد تھا۔گزشتہ دو حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرضے ان کے استعمال اور اجراء کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کے پاس ہیں۔ انکوائری کمیشن کا قیام 22 جون کو عمل میں آیا تھا اور اسے چھ ماہ کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کرنے کا کہا گیا تھا۔ اسے یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ سرکاری یا نجی شعبے سے، مقامی یا غیر ملکی شخص کو بطور رکن، کنسلٹنٹ یا مشیر یا معاون کے طور پر شامل کرسکتا ہے۔عمر حمید کو کمیشن کا رکن/سیکریٹری تعینات کیا گیا تھا وہ اقتصادی امور ڈویژن کے تین سال سے زائد مدت کے لیے ایڈیشنل سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری رہ چکے ہیں جبکہ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے زیادہ تر غیر ملکی قرضوں پر مذاکرات کیے تھے اور اب ان کی جانچ پڑتال ہورہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…