پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں میں اضافہ،صورتحال تشویشناک،وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں دفعہ 144نافذ،خطرناک انتباہ جاری

datetime 12  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)ملک بھر میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد نے ضلع بھر میں دفع 144 نافذ کر دی ہے۔ ضلعی مجسٹریٹ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاکہ وفاقی دارالحکومت میں قائم ٹائر شاپس مالکان پر ٹائرز ڈسپلے کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،شہری پودوں کو پانی دینے میں احتیاط سے کام لیں اور صاف پانی کو ڈھانپ کر رکھیں۔

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کھلے عام گاڑیوں کو دھونے اور پانی گلیوں اور شاہراوں پر بہانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے مطابق شہریوں کی طرف سے گلیوں اور شاہراہوں پر بہایا جانے والا پانی مختلف مقامات پر جوہڑوں اور تالابوں کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔جوہڑوں اور تالابوں میں کھڑے پانی سے ڈینگی مچھر پرورش پاتا ہے۔انتظامیہ کے مطابق شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرکہ جان لیوا بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ شہر کو ڈینگی سے محفوظ بنانے کیلئے تمام اقدامات اٹھا رہی ہے۔ضلعی مجسٹریٹ نے کہاکہ شہریوں کے تعاون سے وفاقی دارلحکومت کو ڈینگی سے محفوظ بنانے کیلئے کاوشیں جاری رکھیں گے۔ڈینگی وائرس کا محرک بننے والوں کے خلاف سیکشن 144 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ادھر وزیر صحت خیبر پختونخوا ہشام انعام اللہ خان نے کہاہے کہ صوبے میں ڈینگی متاثرہ افراد کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ڈینگی کے ساڑھے اٹھارسو میں سے 903 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 675 کیسز کا تعلق پشاور سے ہے۔وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہے ہیں،خیبر پختونخوا کے انیس محکمے ڈینگی کے خاتمے میں تعاون کرینگے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ڈینگی کے معاملے میں عوام میں پولیو کے معاملہ کی طرح خوف وہراس پھیلایا جارہا ہے،لوگوں میں خوف نہ پھیلے اس وجہ سے اسپتالوں کو ڈیٹا شیئر کرنے سے روکا ہے،ڈینگی کا تمام تر ڈیٹا میڈیا کو ڈی جی ہیلتھ فراہم کرنے کے مجاز ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…