بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برعکس کشمیر پر قبضہ کررکھا ہے، ملیحہ لودھی

  اتوار‬‮ 1 ستمبر‬‮ 2019  |  13:14

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارت نے غیر قانونی اور غیر منصفانہ طور پر مسلم اکثریتی ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر کی خود مختار حیثیت کو ختم کیا ہے اور پاکستان نے اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کردیا ہے۔جموں وکشمیر کا تنازع گذشتہ 70 سال سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔ حال ہی میں جب سلامتی کونسل کا بند کمرے کا اجلاس ہوا۔ تو اس نے تسلیم کیا تھا کہ یہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے اور اس کو پْرامن طریقے سے طے کیا جانا


چاہیے۔عرب ٹی وی کو انٹرویومیں انھوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے پر پیدا ہونے والی نئی کشیدگی کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کیا ۔ بھارت نے 5 اگست کو ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی اور وہاں ملک کی دوسری ریاستوں کے باسیوں کو بھی جائیدادیں خرید کرنے کی اجازت دے دی تھی۔بھارت کے اس اقدام کے بعد ریاست جموں وکشمیر کی نئی قانونی حیثیت کے بارے میں سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس ریاست پر بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قبضہ کررکھا ہے۔ بھارت وہاں ایک قابض قوت ہے اور وہ سلامتی کونسل کی ریاست میں استصواب رائے کے انعقاد سے متعلق گیارہ قراردادوں پر عمل درآمد سے مسلسل انکار کرتا چلا آرہا ہے۔ان قراردادوں میں کشمیریوں کوان کا پیدائشی حق خودارادیت تفویض کیا گیا ہے تاکہ وہ یہ فیصلہ کرسکیں کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں گذشہ سات عشروں سے انسانی حقوق کا بحران جاری ہے اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔گذشتہ چار ہفتوں سے اس مقبوضہ ریاست میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ دنیا کے سامنے ہے۔وہاں بھارتی فوج نے کرفیو نافذ کررکھا ہے اور اس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مزید سنگین تر ہو چکا ہے۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ریاست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ابلاغی بلیک آؤٹ کا سلسلہ جاری ہے ، وادی کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ برقی ذرائع سے رابطہ نہیں کرسکتے ہیں ، ٹیلی فون لائنیں بند پڑی ہیں، انٹرنیٹ سروس معطل کی جاچکی ہے ،لوگوں کو نماز کے لیے مساجد میں جانے کی آزادی نہیں ہے اور جموں وکشمیر کے دارالحکومت سری نگر کی سب سے بڑی جامع مسجد گذشتہ چار ہفتے سے بند پڑی ہے۔لوگ علاج کے لیے اسپتال نہیں جاسکتے۔امریکی اخبار نے گذشتہ روز ہی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کشمیر میں اسپتال قبرستانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ کیونکہ وہاں مریضوں اور زخمیوں کے لیے ادویہ دستیاب نہیں۔ ڈاکٹر حضرات خود مریضوں کے علاج کے لیے گھروں سے ان اسپتالوں میں نہیں آسکتے ہیں۔پاکستانی سفیر نے جموں وکشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں کے بارے میں سوال کے جواب میں بتایا کہ وہاں خواتین کی عصمت ریزی کے واقعات کو ایک جنگی حربے کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انسانی حقوق کی علمبردار بین الاقوامی تنظیمیں اس حوالے سے اپنی رپورٹس میں خواتین سے انسانیت سوز سلوک کے واقعات کی تفصیل بیان کر چکی ہیں۔ہم تو ہمیشہ سے یہ چاہتے ہیں کہ عالمی برادری مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔اب تو صورت حال یہ ہے کہ اس مقبوضہ ریاست کے ایک کروڑ چالیس لاکھ نفوس اپنی ہی سرزمین پر قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ وہاں سات لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی تعینات ہیں۔ حال ہی میں بھیجے گئے ایک لاکھ تیس ہزار نیم فوجی دستوں اور دوسری سکیورٹی فورسز کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔انھوں نے کہا کہ قابض قوت ریاست کے عوام کو جبر وتشدد کے ذریعے دبائے رکھنے کے لیے طاقت کے تمام حربے استعمال کررہی ہے۔یہ تو بین الاقوامی میڈیا کی اطلاعات ہیں کہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے اقدام کے خلاف گذشتہ تین چار ہفتے کے دوران میں بھارت کے خلاف پانچ سو سے زیادہ مظاہرے ہوچکے ہیں اور کشمیریوں کے احتجاج کو دبانے کے لیے ان کے خلاف ریاستی دہشت گردی کو استعمال کیا جارہا ہے۔انھوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اب کشمیریوں کے بھارت کے خلاف غیظ وغضب میں اضافہ ہوچکا ہے لیکن کسی علاقے کے عوام کو ہمیشہ کے لیے کرفیو اور جبرواستبداد کی کارروائیوں کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا ہے۔بھارتی فورسز پْرامن کشمیری مظاہرین کے خلاف پیلٹ گولیوں کا استعمال کررہی ہے جس سے لوگ بینائی سے محروم ہورہے ہیں۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر کی صورت حال اور وہاں بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر اٹھا رہا ہے۔دنیا کو ممالک کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کررہا ہے۔ہم یہ چاہتے ہیں۔ کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں کسی بڑے انسانی المیے کو رونما ہونے سے پہلے ہی رو ک لے اور وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کو رکوانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تنازع کشمیر کا پْرامن ذرائع سے حل چاہتا ہے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور کشمیر میں استصواب رائے کے انعقاد کے لیے اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانا چاہیے۔ عرب ٹی وی نے جب ان سے جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے سے متعلق بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے مضمرات کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے بھی سلامتی کونسل کی ایک مخصوص قرار داد موجود ہے اور تنازع کا کوئی ایک فریق بھی وہاں آبادی کے تناسب کو کسی بھی اقدام کے ذریعے تبدیل نہیں کرسکتا ہے۔بھارتی حکام کا ریاست جموں وکشمیر میں آبادی کی حیثیت کو تبدیل کرنے سے متعلق اقدام سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی صریح خلاف ورزی ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی برادری بھار ت پرسلامتی کونسل کی کشمیر یوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے سے متعلق قراردادوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے دباؤ ڈالے۔ کشمیریوں کو محض اس بنا پر اس حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ مسلمان ہیں جبکہ دنیا کے دوسرے متنازع علاقوں میں ایسی ہی صورت حال میں لوگوں کو استصواب رائے کا حق دیا جاچکا ہے۔عرب ٹی وی نے جب ان کی توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کی طرف دلائی جس میں انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں مل کر اپنے دوطرفہ مسائل بات چیت کے ذریعے طے کرسکتے ہیں تو اس کے جواب میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ تنازع کشمیر دوطرفہ کے ساتھ ایک بین الاقوامی مسئلہ بھی ہے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل ہے۔جہاں تک پاکستان کے بھارت کے ساتھ مذاکرات کا تعلق ہے تو بھارتی حکومت نے تو گذشتہ تین سال سے مذاکرات ہی معطل کررکھے ہیں۔جب دوطرفہ بات چیت ہی نہیں ہوگی تو دوطرفہ مسائل کیونکر حل ہوں گے۔


موضوعات: