پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پاکستان بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیاگیا

datetime 24  اگست‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)وکلا نے 26اگست کو پاکستان بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا۔ہفتہ کو آل پاکستان وکلا کنونشن سٹی کورٹ کے جناح آڈیٹوریم  میں منعقد کیا گیا، کنونشن میں پاکستان بار کونسل،سپریم کورٹ بار،صوبائی بار کونسلز،ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بار ایسوسی ایشن کے نمائندے شریک ہوئے آل پاکستان وکلا کنونشن کی میزبانی کراچی بار ایسوسی ایشن نے کی۔ کنونشن میں وکلا کی بڑی تعداد شریک  تھے ،

کنوشن سے خطاب میں  جنرل سیکریٹری کراچی بار کا کہنا تھا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن آئین و قانون کی بالادستی کے لئے ہر اول دستے کا کردار ادا کرے گی،بار اور بینچ کے تقدس کو اولیت دی گی بیرسٹر صلاح الدین احمد  نے  کنونشن سے خطاب  میں کہا کہ یہ تحریک ججز صاحبان کے لیے نہیں،یہ تحریک جمہوریت بحالی کی تحریک ہے، ہمیں کلئیر ہونا چاہیے کہ ہم نے کن چیزوں کا سامنا کرنا ہے، میڈیا پر پابندی مارشل لا کی پہلی خصوصیت، کوئی حق بات کہے اسے مسنگ پرسن بنا دیا جائے مارشل لا کی دوسری قسم،مارشل لا کی تیسری خصوصیت لوگ انصاف کے لیے عدالتوں میں جائیں اور فیصلے مرضی کے ہوں،کچھ مزاحمت ہے اسے بھی دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے  مزاحمت کو بڑھانا ہے، اس ظلم کا سامنا کرنا پڑے گا،فیض آباد دھرنے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے سیدھی بات کی کہ آئین سب کے لیے ہے،جب تک نادیدہ قوتوں کی نشاندہی نہیں کریں گے تب تک ہم آگے نہیں بڑھ سکتے،کسی ایک جج کے خلاف چلنے والا ریفرنس  سامنے نہیں آیا،یہ واحد ریفرنس ہے جو سامنے لایا گیا  سید حیدر امام رضوی ممبر سندھ بار کونسل نے خطاب میں کہا کہ ملک میں گزشتہ تین ماہ سے عدلیہ مخالف حالات ہیں،گزشتہ سال بھی ایک دلیر،ایماندار،شخصیت قاضی فائز عیسی زیر عتاب تھی، قاضی فائز عیسی وہ جج ہیں جو انکے خلاف لکھتے ہیں جنکے خلاف کوئی نہیں لکھتا، وکلا نے عدلیہ کی آزادی کے لیے بے انتہا قربانیاں دی ہیں،

اس جج نے تمام دباو کو بالاتر رکھ کر بلوچستان کی عوام کے حق میں رپورٹ دی، سندھ میں یہاں ججز کے سو موٹو پر کاروائی نہیں ہوئی،افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج میڈیا کو بھی قید کردیا گیا ہے، قربان ملانو صدر سکھر بار کا کنوینشن سے خطاب  میں کہنا تھا کہ سابق صدر مشرف کے خلاف کیس آج تک نہیں چل پایا،آج ججز کے خلاف ریفرینس چلائے جارہے ہیں،ان ججز کے پیچھے ہم کالے کوٹ والے ہیں، ہم ایک پیج پر ہیں، کشمیر سے تعلق رکھنے والی راحت بانو ایڈوکیٹ  کا کہنا تھا کہ کشمیر پر ستر سال سے بھارت مسلط ہے،

نھتے کشمری اس ظلم کے آگے دیوار بنے ہیں،آج کشمیری آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں،ہم اپنی آنے والی نسل کو آزاد عدلیہ دے کر رہیں گے چاہے ہمیں اپنی جان ہے کیوں نا دینا پڑے،جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس اتنی تیزی سے کیوں چلایا جا رہا ہے،عدلیہ کو آزاد رہنے دیا جائے،محمد عاقل ایڈووکیٹ صدر سندھ بار کونسل کا کنوینشن سے خطاب میں کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی بد نیتی پر مبنی ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور بیٹا ڈیپنڈنٹ نہیں ہیں،جب وہ ڈی پنڈنٹ نہیں ہیں تو ایسٹس کا انہی سے معلوم کیا جائے،

اس ریفرنس کے پس منظر میں کچھ اور ہے،وکلا کو توہین عدالت کے نوٹس پر پورے پاکستان میں سٹرائک کریں گے،  شاہ نواز گجر  ایڈووکیٹ وائس چئیر مین پنجاب  بار کونسل کا کنوینشن سے خطاب  میں کہنا تھا کہ جب تک ہر ادارہ اپنی حد میں نہیں رہے گا یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا، بنجاب کے وکلا کی جانب سے امجد شاہ کو توہین عدالت کے  نوٹس کی مزمت کرتا ہوں،ہم عدلیہ کی آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،آزادی سے لیکر اب تک ہماری عدلیہ آزاد نہیں ہے،قاضی فائز عیسی جیسے ایماندار جج پر الزامات کی مزمت کرتے ہیں، یہ تحریک ملک کے لیے ہے، آئین کے لیے ہے، آزاد عدلیہ کے لیے ہے،یہ تحریک جسٹس قاضی فائز عیسی کے لیے ہے آ اس میں شامل ہو جا،آزادی رائے پر پابندی ہے، ہم پاکستانی ہیں  اور پاکستان کا بھلا چاہتے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…