مریم نواز امیر ترین نکلیں، 2000 ملین کی منی لانڈرنگ، کتنے اثاثے ہیں؟ کس کس سے رقم وصول کی؟ ثبوت مل گئے، سنسنی خیز انکشافات

  بدھ‬‮ 21 اگست‬‮ 2019  |  22:25

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز امیر ترین نکلیں، چوہدری شوگر ملز کیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق مریم نواز، نوازشریف اور شریک ملزموں نے 2000 ملین کی منی لانڈرنگ کی۔مریم نواز کو منتقل ہونے والے شیئرز کی تفصیلات بھی اس تفتیشی رپورٹ میں درج تھیں اور ان کے مطابق مریم نواز کو 2008ء میں سعید سیف بن جبر اسعیدی کی طرف سے 94 لاکھ 9 ہزار شئیرز منتقل ہوئے جبکہ شیخ زکاء الدین نے 20 لاکھ 21 ہزار 760 شئیرز منتقل کیے۔ اس رپورٹ کے مطابق


مریم نواز کو ہانی احمد جمون نے 97 ہزار شئیرز منتقل کیے جبکہ 2010ء میں مریم نواز نے یوسف عباس کو 70 لاکھ شیئرز منتقل کیے اور 2010ء میں ہی مریم نواز نے نواز شریف کو 50 لاکھ شیئرز منتقل کئے۔رپورٹ کے مطابق 2013ء میں یوسف عباس کو بیرون ملک سے 13 کروڑکی رقم منتقل کی گئی، رپورٹ کے مطابق یوسف عباس کا عرب امارات میں کوئی کاروبار یا ذریعہ آمدن نہیں تھا، کس نے یوسف عباس کو رقم بھجوائی اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں، واضح رہے کہ مریم نواز متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقم کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں جبکہ یوسف عباس کو یہ رقم 5 ٹرانزیکشن کے ذریعے ایک ہی بینک میں منتقل کی گئی۔ تفتیشی رپورٹ کے مطابق یوسف عباس اور مریم نواز نے شمیم نامی شوگر مل مشترکہ طور پر خریدی لیکن دونوں ملزمان شمیم شوگر ملز کی خریداری کے ذرائع آمدن بھی ابھی تک نہیں بتا سکے ہیں۔ دوسری جانب نیب نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کو چوہدری شوگرملزکیس میں شامل تفتیش کرلیاہے اور چوہدری شوگر مل میں شئیرز اور انوسٹمنٹ سمیت دیگر تفصیلات مانگ لیں ہیں۔تفصیلات کے مطابق نیب لاہور نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کیخلاف نئی انکوائری کا آغاز کر دیا، حمزہ شہباز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں شامل تفتیش کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی۔نیب نے حمزہ شہباز سے چوہدری شوگر مل میں شئیرز اور انوسٹمنٹ سمیت دیگر تفصیلات مانگی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز سے چوہدری شوگر مل کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہونے والی رقم سے متعلق سوالات کئے گئے ہیں کہ چوہدری شوگر مل کی رقم کس اکانٹ میں آتی تھی؟ الیکشن کمشن کے روبرو چوہدری شوگر مل کے شئیرز ظاہر نہ کرنے کے بارے میں بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق نیب حمزہ شہباز کیخلاف رمضان شوگر مل، منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں بھی انکوائری کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کی آئندہ پیشی پر نیب اپنی رپورٹ احتساب عدالت میں جمع کرائے گا۔ خیال رہے قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو چوہدری شوگر ملز کیس میں 23 اگست کو طلب کرلیا اور ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام دستاویزات اور ریکارڈ کے ساتھ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوں۔یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز اور بھتیجے عباس شریف کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد احتساب عدالت نے گرفتار مریم نواز اور عباس شریف کو 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا تھا 2008 میں مریم نواز کے نام پر11 ملین کے شیئر تھے، مریم نوازچوہدری شوگرملزکی ڈائریکٹرہیں، مریم نوازکے84لاکھ روپے کے شیئر تھے، جو بڑھ کر 41 کروڑ ہوگئے۔ واضح رہے کہ احتساب عدالت نے چوہدری شوگرملز کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن)کی مرکزی نائب صدر مریم نواز اور ان کے کزن یوسف عباس کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع کردی۔نیب نے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر مریم نواز اور یوسف عباس کو انتہائی سخت سکیورٹی میں احتساب عدالت کے جج نعیم ارشد کے روبرو پیش کیا۔سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی اسے مکمل کرنے کے لیے مزید 15 روز کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔مریم نواز کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان تمام کیسز کی تحقیقات ہو چکی ہیں اور ٹرائل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ اس لیے ایک الزام میں بار بار تفتیش نہیں ہوسکتی،ایسا کرنا آئین اور قانون کے منافی ہے۔جج نعیم ارشد نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 14 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 4 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔قبل ازیں لیگی رہنمااور کارکنان اظہار یکجہتی کیلئے صبح سے عدالت پہنچ گئے تاہم پولیس نے انہیں عدالت کی جانب سے روکدیا اور اس موقع پر دھکم پیل اور تلخ کلامی دیکھنے میں آئی۔ پولیس کی طرف سے احتساب عدالت جانے والے راستوں کو کنٹینر، بیرئیر اور خاردارتاریں لگاکر بندکردیا گیا جس کی وجہ سے کارکنان نے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔کمرہ عدالت میں موجود بعض وکلاء اور کارکنان شور شرابہ کرتے رہے اور مریم نواز کے ساتھ سیلفیاں بھی بنوائیں جس کی وجہ سے جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔کمرہ عدالت میں مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر)محمد صفدر،صاحبزادے جنید صفدر،پرویز رشید، نہال ہاشمی، سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال، خرم دستگیر، سیف الملوک کھوکھر سمیت دیگر بھی موجود تھے۔

موضوعات:

loading...