بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

ہم یقیناً سوئے رہے، اب اگر ٹرمپ فون کرے گا تو مودی کہے گا ثالثی کرنی ہے تو آزاد کشمیر پر کرو، حکومت پاکستان کی غفلت پر بڑے سوال اُٹھا دیے گئے

datetime 5  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ہم یقیناً سوئے رہے، اب اگر ٹرمپ فون کرے گا تو مودی کہے گا ثالثی کرنی ہے تو آزاد کشمیر پر کرو، یہ بات سینئر صحافی طلعت حسین نے کہی، انہوں نے کہا کہ ثالثی کے لیے ٹرمپ مودی کو فون نہیں کرے گا، انہوں نے کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق ہندوستان کی پالیسی ہمیشہ بدنیتی پر مبنی تھی، انہوں نے کہا کہ جب وہ اس کو متنازعہ علاقے کہتے تھے تو ان کا مطلب یہ ہی ہوتا کہ اس کو اپنے ساتھ ملانا ہے۔

طلعت حسین نے کہاکہ عالمی دنیا کے سامنے پاکستان ایک تگڑا مقدمہ رکھ سکتا ہے کہ ہم جو کہتے رہے یہ وہی کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان اسی طرح یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان نے کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت جو خصوصی حیثیت دی ہوئی تھی، وہ ختم کر دی ہے، بھارت نے اپنے ہی آرٹیکل کو نہیں مانا اور اسے ختم کرکے کشمیر کو ضم کر دیا ہے، اس لیے ہم اس کو نہیں مانتے، ایسا کرنے سے کشمیر کے متنازعہ ہونے کے خدوخال پر کوئی فرق نہیں پڑا، طلعت حسین نے کہا کہ پاکستان یہ دلائل دے سکتا ہے کہ بھارت نے اندرونی واردات کرنے کی کوشش کی ہے، سینئر صحافی نے کہا کہ ہماری ساری توجہ ایل او سی تھی، بھارت کی جانب سے کلسٹر بم پھینکے گئے، انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کو باور کروا سکتے تھے کہ ایل او سی کی انڈیا خلاف ورزی کر رہا ہے، طلعت حسین نے کہا کہ اس معاملے کو ہم نے نظروں سے اوجھل ہونے دیا، جبکہ بھارت لائن آف کنٹرول کو ایک بارڈر میں تبدیل کرتے ہوئے کہ رہا ہے کہ یہ حدود ہماری ہے، لداخ، جموں و کشمیر کو ہم نے یونین میں تبدیل کردیا ہے، انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے اپنے منشور میں لکھا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیا کرنا چاہتے ہیں، بی جے پی کے وزیر داخلہ نے اپنے ہوم ورک میں تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا ایجنڈا بنا رکھا ہے، طلعت حسین نے کہاکہ یہ ایک طویل عمل ہے لیکن ہم اس پر یقیناً سوئے رہے، لوگوں کو جمہوریت پر لیکچر دیتے رہے، سینٹ الیکشن میں مصروف رہے، میڈیا سے نبرد آزما رہے، سینئر صحافی نے کہا کہ اب ہمیں ٹرمپ سے ثالثی نہیں کروانی چاہیے، مودی کو اگر ٹرمپ فون کرے گا تو وہ کہے گا کہ یہ تو ہمارا حصہ ہے، آپ نے اگر ثالثی کرنی ہے تو آزاد کشمیر پر کریں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…