منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، پاک بھارت صورتحال میں کون سا راستہ اختیار کیاجائے؟اسفندیار ولی خان نے تجویز دیدی

datetime 4  اگست‬‮  2019 |

پشاور (این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ جنگ یا جنگی جنون کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات سے ہی مسائل کا حل ممکن ہے، خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مسائل صرف مذاکرات سے ہی حل کئے جا سکتے ہیں تاکہ دونوں اطراف بسنے والوں کیلئے آزاد فضاء  قائم کی جا سکے،

انہوں نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور بھارت اس وقت ایٹمی قوت ہیں، چنانچہ اب اگر خدانخواستہ ان دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو وہ ماضی کی جنگوں کی طرح محض روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہے گی اور دونوں جانب سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا، دنیا ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملوں کی ہولناک تباہی دیکھ چکی ہے، جنگ کی صورت میں ہونے والی ہولناک تباہی و بربادی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لہٰذا دونوں پڑوسی ممالک کی بقا اور سلامتی کا تقاضا یہی ہے کہ اشتعال انگیزی اور دھمکیوں سے گریز کرتے ہوئے عاقبت اندیشی اور مفاہمت کی راہ اختیار کی جائے اور کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے،انہوں نے کہا کہ آج پاکستان تاریخ کے اہم موڑ پر ہے، اس نازک وقت میں سیاسی قیادت کو اجتماعی بصیرت اور تدبر سے کام لینا ہوگا، مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کی بنیادی وجہ ہے،اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے، پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں کئی زخم اپنے سینے پر کھائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر خطے کو جنگ کا ایندھن بننے سے بچانے کیلئے کردار ادا کریں،انہوں نے کہا کہ اے این پی عدم تشدد پر یقین رکھنے والی جماعت ہے اور آج بھی ہماری آواز موجودہ صورتحال میں امن کے حق میں ہو گی، انہوں نے کہا کہ سیاست میں اداروں کی مداخلت سمیت اندرونی سیاست پر ایکدوسرے سے اختلافات ہو سکتے ہیں

لیکن سرحدوں پر پیدا شدہ نازک صورتحال پر ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ صورتحال باعث تشویش ہے اور بالخصوص ان قوتوں کیلئے انتہائی تشویش کی بات ہے جو عدم تشدد کی بات کرتی ہیں اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حق میں ہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں، تشدد سے نفرتیں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی جائیں گی،انہوں نے کہا کہ دونوں ملک ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنے تنازعات کا حل تلاش کرنے کیلئے گفت و شنید کی طرف آئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…