منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

14 لوگ کون تھے جنہوں نے ضمیر فروشی کر کہ جمہوریت کو نقصان پہنچایا؟شہبازشریف نے بڑا اعلان کردیا

datetime 1  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہاہے کہ خفیہ بیلٹ میں 14 ووٹ کھسک گئے،اوپن ووٹنگ ہوئی تو اپوزیشن کے سینیٹرز کی تعداد 64 تھی،وہ جیت کر بھی جمہور کے سامنے شرمندہ ہوئے،ایک بار پھر پھر دھاندلی کی گئی، بکنے والے سینیٹر ز کی نشاندہی کرینگے، ضمیر فروشی کر کے جمہوریت کو نقصان پہنچانے والوں کو قوم کے سامنے بے نقاب کرینگے،آئندہ ہفتے اے پی سی بلائیں گے۔

جمعرات کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم نے فیصلے کیے ہیں کہ 14 سینیٹر جو بک گئے، جنہوں نے اپنا ضمیر بیچا ان کی نشاندہی کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہم قوم کو بتائیں گے کہ 14 لوگ کون تھے جنہوں نے ضمیر فروشی کر کہ جمہوریت کو نقصان پہنچایا،فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ ہفتے اے پی سی بلائیں گے اور فیصلے کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات بھی طے ہوئی ہے کہ جب سینٹ کا اجلاس ہو گا تو ہارس ٹریڈنگ کے خلاف پارٹیاں بھر پور موقف پیش کریں گی۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا فیصلہ ہے کہ سینٹ کے ہر اجلاس میں ہارس ٹریڈنگ کے خلاف پوری قوت  سے آواز بلند کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ ان افراد نے جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو کمزور کیا،اپوزیشن کے چودہ ووٹ امیر ترین لوگوں کی چمک کا شکار ہوئے۔انہوں نے کہاکہ سلیکٹیڈ حکومت ایوان کے اندر ضمیر فروشی کر کے جیت گئی لیکن عوام کی عدالت میں ہار گئی،گزشتہ سال انتخابات  میں بھی سینٹ اں تخاب کی طرح ہی حکومت سلیکٹ ہوئی تھی،گذشتہ سال کے دھاندلی شدہ انتخابات کی تاریخ آج پھر دہرائی گئی،سلیکٹڈ حکومت جمہور کے سامنے ایک مرتبہ پھر شرمندہ ہوئی۔  شہباز شریف نے کہاہے کہ خفیہ بیلٹ میں 14 ووٹ کھسک گئے،اوپن ووٹنگ ہوئی تو اپوزیشن کے سینیٹرز کی تعداد 64 تھی،وہ جیت کر بھی جمہور کے سامنے شرمندہ ہوئے،ایک بار پھر پھر دھاندلی کی گئی، بکنے والے سینیٹر ز کی نشاندہی کرینگے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…