بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

کیا نور الحسن کی موت ڈاکٹرز کی غفلت کی وجہ سے ہوئی ؟ اسپتال انتظامیہ شدید تنقید کی زد میں آگئی

datetime 8  جولائی  2019 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)شالیمار اسپتال میں زیرعلاج 330کلو وزنی نور الحسن آج صبح انتقال کر گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق نور الحسن کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ڈاکٹر معاذ اور ان کے عملے کو آڑھے ہاتھوں لیتے خوب تنقید کا نشانہ بنایا ہے صارفین نے لکھا کہ نور الحسن کی موت ڈاکٹر اور اسپتال عملے کی غفلت کی وجہ سے ہوئی یا پھر وجہ کوئی اور ہے ۔

سوشل میڈیا صارفین نے ڈاکٹرز اور عملے کی لی گئی تصاویر شیئر کرتے کہا ہے کہ نور الحسن کے آپریشن کے دوران بھی غفلت برتی گئیآپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر معاذ اور ان کا عملہ سیلفیاں اور ویڈیوز بنانے میں مصروف زیادہ دکھائی دیا جو انتہائی افسوسناک ہے ۔کچھ صارفین نے نورالحسن کی موت کا ذمہ دار ڈاکٹر ز کو ٹھہرایا تو کچھ کا کہنا تھاکہ آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹرز اور عملے کو آپریشن پر فوکس کرنا چاہیے تھا نہ کہ سیلفیوں اور ویڈیوز پر ۔ دریں اثنا نور حسن کے انتقال پر ان کے علاج کرنے والے ڈاکٹر معاذ نے انتقال کی وجہ بیان کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر معاذ نے بتایا کہ اسپتال میں ڈیلیوری کے دوران ایک خاتون انتقال کر گئی تھی جس کے لواحقین نے اشتعال میں آکر چیزو ں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی جس پر نورالحسن سمیت 2افراد انتقال کر گئے ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ توڑ پھوڑ اور شوروغل کے دوران نور الحسن کو سانس کی تکلیف کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہوا جس کی وجہ سے ان کی موت ہوئی ۔ قبل ازیں موٹاپےکا شکار نور حسن انتقال کر گئے ہیں۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ نور حسن 3 ہفتے سے لاہور کے نجی اسپتال میں زیر علاج چل رہا تھا ۔ نور حسن کا تقریباًدن پہلے آپریشن ہوا تھا ۔ ڈاکٹروں نے نور حسن کا آپریشن کرکے اس کے معدے کا سائز چھوٹا کردیا تھااور آپریشن کو کامیاب قرار دیا تھا۔آپریشن کے بعد نورحسن کو آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔ وہ آج اچانک انتقال کرگئے۔واضح رہے کہ مرحوم نور حسن کو گھر کی دیوار توڑ کر ائیر ایمبولینس کے ذریعے علاج کیلئے لاہور لایا گیا تھا ۔ نورحسن کا وزن 330 کلو تھا اور وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…