بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

توشہ خانہ کیس ، بلٹ پروف گاڑیاں کب کیسے اور کتنی رقم سے خریدی گئیں؟ نواز شریف سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے آگے سے کیا جواب دیا ؟

datetime 5  جولائی  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )قومی احتساب بیورو(نیب) اسلام آباد کی تین رکنی ٹیم نے توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں تفتیش کی ہے۔ نواز شریف سے ایک گھنٹہ پوچھ گچھ کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں سرکاری گاڑی کے غیر قانونی استعمال کے الزام کی تحقیقات کے لیے نیب اسلام آباد کی تین رکنی ٹیم کوٹ لکھپت جیل پہنچی تھی۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف کو سکیورٹی سیل سے جیل سپرٹنڈنٹ کے کمرے میں سخت سکیورٹی میں لایا گیا ۔ تین افسران نے نواز شریف سے ایک گھنٹے تک تفتیش کی ۔نیب کی جانب سے نواز شریف کو سوالنامہ دیا گیا تھا ۔ نواز شریف سے ایک گھنٹے تک تفتیش مکمل کرنے کے بعد نیب کی تین رکنی ٹیم جیل سے روانہ ہوگئی ۔جیل ذرائع کے مطابق نواز شریف سے تفتیش کے دوران دوران جیل افسران کو کمرے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ہونے والی نیب کی تفتیش کی اندرونی کہانی کے متعلق ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ ملاقات جیل سپرٹنڈنٹ کے احاطے سے متصل کمرے میں ہوئی۔ نیب کی ٹیم نے سابق وزیراعظم سے خیریت دریافت کرنے کے بعد بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری سے متعلق سوالات کیے ۔ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ بلٹ پروف گاڑیاں کب؟ کیسے؟ اور کتنی رقم سے خریدی گئیں؟ نیب کی ٹیم نے یہ بھی معلوم کیا کہ کیا آپ کو معلوم تھا کہ خریداری میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں؟سابق وزیراعظم نے موقف اپنایا ہے کہ یہ بھی کوئی کیس ہے ،جتنے بھی کیس بنا لو کچھ بھی نہیں نکلے گا، جنہوں نے گاڑیاں خریدی ہیں ان سے پوچھا، تین مرتبہ وزیراعظم رہا، قوم کی خدمت کی، ملک کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکالا اور ایٹمی قوت بنایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج تک جو بھی کیا وہ ملک و قوم کے مفاد میں کیا۔نیب ٹیم نے ملنے والے جواب پر کہا کہ آپ پر الزام ہے کہ آپ نے بلٹ پروف گاڑیوں کو اپنے ذاتی استعمال میں لا کر قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا ہے؟سابق وزیراعظم نے اس پر کہا کہ الزام لگانے والے تو کوئی بھی الزام لگا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر بھی نکال دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے ایک ایک روپے کی حفاظت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موٹروے بنائی، ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا اور کوئی غلط کام کرنے کا کبھی نہیں سوچا۔ذرائع کے مطابق نیب کی ٹیم نے سابق وزیراعظم سے کہا کہ ہمیں آپ پر لگنے والے الزام کی حقیقت تک پہنچنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی آپ کا جواب ہے وہ ہمیں بتا دیں تا کہ قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھا سکیں جس کے بعد انہیں سوالنامہ بھی تھما دیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…