بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

لوگوں کے اربوں ڈالرز باہر پڑے ہیں جنہیں واپس نہیں لایا جا رہا، عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، اسد عمر اپنی ہی حکومت پر برس پڑے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 4  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)لوگوں کے اربوں ڈالرز باہر پڑے ہیں جنہیں واپس نہیں لایا جا رہا، عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، اسد عمر اپنی ہی حکومت پر برس پڑے، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا،

اس اجلاس میں سیمنٹ، آٹا، چینی اور مقامی فضائی ٹکٹس کی قیمتوں میں اضافے پر بریفنگ طلب کی گئی۔ اسد عمر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے اربوں ڈالرز باہر پڑے ہیں انہیں واپس نہیں لایا جا رہا جبکہ پاکستان میں عوام پر نہ چاہتے ہوئے بھی اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ایف بی آر کے حکام نے بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اٹھائیس ممالک سے ایک لاکھ باون ہزار اکاؤنٹس کا ڈیٹا مل چکا ہے، ایف بی آر کے حکام کے مطابق ان اکاؤنٹس میں سات ارب پچاس کروڑ ڈالرز پڑے ہیں، صرف 650 اکاؤنٹس میں چار ارب پچاس کروڑ ڈالر موجود ہیں۔ اس موقع پر ایف بی آر حکام نے کہا کہ ان افراد میں سے 60 فیصد نے ٹیکس ایمنسٹی کلیم کر دی ہے، رپورٹ کے مطابق ان افراد کے خلاف کارروائی کے لئے ٹیکس ایمنسٹی متعارف کرنے میں تاخیر کی گئی، اس موقع پر اسد عمر نے کہا کہ ان افراد میں سے اگر پانچ افراد کے خلاف کارروائی ہوتی تو ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو بڑا رسپانس ملتا، قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ایف بی آر کی بریفنگ کو مسترد کرتے ہوئے بیرون ملک اکاؤنٹس پر بریفنگ کے لیے آئندہ اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر کو طلب کر لیا ہے۔ لوگوں کے اربوں ڈالرز باہر پڑے ہیں جنہیں واپس نہیں لایا جا رہا، عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، اسد عمر اپنی ہی حکومت پر برس پڑے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…