جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی آمدن پر ٹیکس کٹوتی کی شرح ماہانہ نہیں سالانہ بنیاد پرہوگی، بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 26  جون‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی) خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سالانہ بجٹ 2019-20 میں سرکاری ملازمین پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ ٹیکس کٹوتی  کی شرح میں معمولی ردو بدل کی گئی ہے،انہوں نے مزید کہا ہے کہ بجٹ میں صوبائی سرکاری ملازمین کی آمدن پر ٹیکس کٹوتی کی شرح سالانہ بنیاد پر مقرر کی گئی ہے

جبکہ بعض اخبارات میں ٹیکس کٹوتی کی شرح کو ماہانہ بنیاد پر شائع کیا گیا تھا جس کی وجہ سے سرکاری ملازمین میں تشویش پائی جارہی تھی۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا سے خیبرپختونخوا سیکرٹریٹ ایمپلائز کوارڈینیشن کونسل کے نمائندہ وفد کی بدھ کے روز ہونے والی ملاقات کے موقع پر صوبائی وزیر نے یہ وضاحت پیش کی۔وفد کی سربراہی کونسل کے صدر حبیب اللہ کررہے تھے جبکہ دیگر یونین کے صدور طارق رحمان،شاہ بخت یوسفزئی،منظور خان،جابر بنگش اور سید گل رحمان بھی ملاقات میں شریک تھے۔وزیر خزانہ نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت سرکاری ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے اور ان کے تمام جائز اور حل طلب مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سرکاری ملازمین کے لئے ہاوئسنگ سکیم،کار سکیم اور ہیلتھ کارڈ کے اجراء پر غور کررہی ہے اور اس سلسلے میں جلد مثبت پیش رفت متوقع ہے۔انہوں نے سرکاری ملازمین پر بھی زور دیا کہ وہ سرکاری امور کی بہتر انداز میں انجام دہی کے لئے پوری محنت اور لگن سے کام کریں۔ خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سالانہ بجٹ 2019-20 میں سرکاری ملازمین پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ ٹیکس کٹوتی  کی شرح میں معمولی ردو بدل کی گئی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…