جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آغا سراج درانی نے ایک ارب 61 کروڑ سے زائد کے اثاثے بنائے،نیب نے سپیکر سندھ اسمبلی کیخلاف ریفرنس دائرکردیا،اہلیہ ، بیٹا، بیٹیاں، بھائی ،ملازم بھی شامل

datetime 30  مئی‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)نیب نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف ریفرنس دائر کردیاہے۔جمعرات کواحتساب عدالت میں نیب کی جانب سے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف ریفرنس دائر کردیا گیا ہے، ریفرنس میں آغا سراج درانی کی اہلیہ، بیٹا، 4 بیٹیاں، ایک بھائی اور ملازم سمیت 20 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔نیب ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ آغا سراج درانی نے ایک ارب 61 کروڑ روپے سے

زائد کے اثاثے بنائے ہیں، آغاسراج درانی اور دیگر اہلخانہ سے 11 کروڑروپے کی قیمتی گھڑیاں اور لاکر سے ساڑھے3 سو تولہ سونا برآمد ہوا، غیرقانونی اثاثہ جات میں گھر اور 35 گاڑیاں شامل ہیں۔ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ آغا سراج درانی نے غیر قانونی آمدن سے بنائی گئیں جائیدادیں فروخت بھی کردی ہیں، اثاثوں میں 11گاڑیاں اور بیٹے، بیوی اور بیٹیوں کے نام پر کراچی اور ایبٹ آباد میں جائیداد ہیں، دوران تفتیش آغا سراج درانی نے آمدنی 8 کروڑ بتائی تھی۔جمعرات کو اسپیکر سندھ اسمبلی کے آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق احتساب عدالت میں سماعت ہوئی،نیب کے تفتیشی افسر نے ریفرنس عدالت میں پیش کیا،نیب کی جانب سے جمع کرائے گئے ریفرنس کی نقول آغا سراج درانی کے وکیل کو فراہم کی گئی۔نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے عدالت کو ریفرنس کی کاپی تاحال جمع نہیں کرائی گئی،عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کہ مزید کتنے دن مزید چاہئے عدالت کو کاپی فراہم کرنے میں، جس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ تین سے چار دن مزید لگ جائیں گے۔آغا سراج درانی کے وکیل نے بتایا کہ ان کی ایک درخواست ابھی بھی زیر التوا ہے اور ریفرنس ابھی قابل سماعت نہیں ہے لہذا عدالت پابند نہیں ہے کہ ریفرنس کو لازمی سماعت کے لیے منظور کرے۔بعد ازاں عدالت نے آغا سراج درانی کے عدالتی ریمانڈ میں 17 جون تک توسیع کرتے ہوئے مزید سماعت 17جون تک ملتوی کردی۔احتساب عدالت میں غیر رسمی گفتگو

کرتے ہوئے اسپیکر آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ تِین مہینے سے اسکا انتظار کر رہے تھے،اب جا کر ریفرنس فائل ہوا ہے،جسکا بھرپور دفاع کیا جائیگا۔اس موقع پراسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے گذشتہ روز اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے کارکنان پر ہونے والی لاٹھی چارج اور تشدد سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت 50 لوگوں کو سنبھال نہیں سکتی، اس حکومت کو جیالوں کا علم نہیں ہے، جیالوں نے ضیا کے مارشل لا اور مشرف جیسے آمر کا سامنا کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…