بدھ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2024 

پاکستانیوں کی جیبوں پر 76ارب کا ڈاکہ، کرپشن کی خفیہ دستاویزات لیک،ہوشربا انکشافات

datetime 29  اپریل‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(آن لائن)نیپرا کی نااہلی اور افسران کی کرپشن کے باعث قوم کو 76 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ۔ نیپرا کی ناقص کارکردگی کے باعث گزشتہ سال نجی پاور کمپنیوں کو 76 ارب روپے اضافی ادائیگی کی گئی تھی جس میں بھاری فنڈز کرپٹ افسران کی جیبوں میں چلے گئے ہیں ۔

دستاویزات کے مطابق چار نجی کمپنیوں نے کم بجلی پیدا کرنے کے باوجود 28 ارب روپے زائد وصول کر لئے ۔ ان چار کمپنیوں میں نادرن پاور جنریشن کمپنی ، جامشورو پاور کمپنی ، سنٹرل پاور جنریشن اور دیگر نجی پاور کمپنی شامل ہیں ۔ کراچی الیکٹرک سٹی کو سپلائی کرنے والی کمپنی ( BQPS) نے بجلی پید ا ہی نہیں کی جبکہ صارفین کو ساڑھے 14 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ۔ لاہور کے قریب جاپان پاور جنریشن لمٹیڈ نے بجلی سپلائی 120 میگاواٹ نہ کرنے کے باوجود ساڑھے پانچ ارب روپے بھی وصول کر لئے ہیں۔لائسنس کے حصول کے باوجود ایگزیکٹو رینٹل پاور نے بجلی سپلائی کے نام پر 3 ارب 75 کروڑ روپے وصول کر لئے ہیں کیسپکو کے حکام کو مہنگی بجلی پیدا کر کے 3 ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان کیا گیا ہے ۔ سنٹرل پاور جنریشن کمپنی لمٹیڈ کو گیس پر چلانے کی بجائے دیگر فیول پر چلانے کی اجازت دے کر 3 ارب 76 کروڑ روپے کا نقصان قومی خزانہ کو دیا گیا ہے ۔ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے صارفین سے 3 ارب روپے کی عدم وصولی کی گئی ہے جبکہ صارفین کے بلوں مین اڑھائی ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ بھی نہیں کی گئی ہے ۔ نادرن پاور جنریشن کمپنی لمٹیڈ کمپنی نے مہنگی فیول سے بجلی پیدا کر کے اضافی ایک ارب 60 کروڑ کا نقصان کیا گیا ہے ۔

نیپرا حکام نے تھرمل پاور جنریشن جامشورو کو جنریشن آئل سے چلا کر قومی خزانہ کو 50 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ نیپرا حکام نے عوامی فنڈز سے 6 کروڑ 28 لاکھ روپے مالیت کی تین گاڑیاں بھی خرید لیں جن کی قواعد اجازت بھی نہیں دیتے تھے جبکہ بونس کے نام پر افسران نے 6 کروڑ اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کر لئے ۔ نیپرا بجلی پیدا کرنے کی کمپنیوں کو ریگولیٹ کرتا ہے جبکہ اس کے حکام نجی پاور کمپنیوں سے مل کر اربوں روپے کی لوٹ مار کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں عوام کو بھاری بلوں کی شکل میں قیمت اٹھانا پڑتی ہے ۔

موضوعات:



کالم



جارجیا میں تین دن


یہ جارجیا کا میرا دوسرا وزٹ تھا‘ میں پہلی بار…

کتابوں سے نفرت کی داستان(آخری حصہ)

میں ایف سی کالج میں چند ہفتے یہ مذاق برداشت کرتا…

کتابوں سے نفرت کی داستان

میں نے فوراً فون اٹھا لیا‘ یہ میرے پرانے مہربان…

طیب کے پاس کیا آپشن تھا؟

طیب کا تعلق لانگ راج گائوں سے تھا‘ اسے کنڈیارو…

ایک اندر دوسرا باہر

میں نے کل خبروں کے ڈھیر میں چار سطروں کی ایک چھوٹی…

اللہ معاف کرے

کل رات میرے ایک دوست نے مجھے ویڈیو بھجوائی‘پہلی…

وہ جس نے انگلیوں کوآنکھیں بنا لیا

وہ بچپن میں حادثے کا شکار ہوگیا‘جان بچ گئی مگر…

مبارک ہو

مغل بادشاہ ازبکستان کے علاقے فرغانہ سے ہندوستان…

میڈم بڑا مینڈک پکڑیں

برین ٹریسی دنیا کے پانچ بڑے موٹی ویشنل سپیکر…

کام یاب اور کم کام یاب

’’انسان ناکام ہونے پر شرمندہ نہیں ہوتے ٹرائی…

سیاست کی سنگ دلی ‘تاریخ کی بے رحمی

میجر طارق رحیم ذوالفقار علی بھٹو کے اے ڈی سی تھے‘…