پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر، پلوامہ حملے میں مبینہ طورپر شامل عادل احمد ڈار کے ساتھ بھارتی فوج نے ایسا کیا شرمناک سلوک کیاتھا؟ جس کی وجہ سے وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہوا؟افسوسناک انکشافات

datetime 16  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)مقبوضہ کشمیر، پلوامہ حملے میں مبینہ طورپر شامل عادل احمد ڈار کے ساتھ بھارتی فوج نے ایسا کیا شرمناک سلوک کیاتھا؟ جس کی وجہ سے وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہوا؟افسوسناک انکشافات، تفصیلات کے مطابق پلوامہ حملہ ، بھارتی پروفیسر نے اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی پروفیسر کا کہنا تھا کہ مودی صرف لاشوں پر سیاست کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو موت کا سودا گر قرار دیا۔

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں بھارتی پروفیسر نے مزید کہا کہ مودی نیانتخابات جیتنے کے لیے 2002ء4 میں گودھرا ٹرین آتشزدگی کے واقعے کی 59 لاشوں کو استعمال کیا اور اب پلوامہ میں ہلاک فوجیوں کی لاشوں کے ساتھ بھی وہی کر رہے ہیں۔اشوک سوائن نے کہا کہ اڑی واقعے پر مودی نے دریائے سندھ کے پانی کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔ پلوامہ واقعہ پر پاکستان کو ذمہ دار کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ عادل احمد ڈار کیوں پلوامہ میں ہونے والے حملے کا ذمہ دار بنا؟ اس لیے کہ اس کو سکول سے واپسی پر بھارتی فورسزنے زمین پر ناک رگڑوائی تھی۔واضح رہیبھارتی نڑاداشوک سوائین سوئیڈن میں پروگرام آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔دریں اثناء مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پلوامہ میں خودکش حملہ کرنیوالے عادل احمد ڈار کے والد نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کے تشدد اور غیرانسانی رویے نے میرے بیٹے کو شدت پسند بنا دیا۔غلام حسن ڈار نے کہا فوجیوں کے اہلخانہ کی طرح ہم بھی بہت تکلیف میں ہیں، بھارتی فوجیوں نے میرے بیٹے اور اسکے دوستوں کو روکا، انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، ان پر پتھر پھنکنے کے الزامات لگا دیتے اور ہراساں کرتے تھے ، جس کے باعث اس نے اسلحہ اٹھانے کی ٹھان لی۔عادل کی والدہ فہمیدہ نے بھی اپنے شوہر کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے بتایا کہ فوجیوں کے تشدد کے باعث میرا بیٹا ان سے نفرت کرنے لگ گیا تھا، ہمیں بیٹے کے منصوبے کا علم نہیں تھا، ہمارا بیٹا گزشتہ مارچ کی 19 تاریخ سے غائب ہے ، ہم نے بہت تلاش کیا لیکن بے سود ثابت ہوا۔غلام حسن ڈار نے اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار سیاستدانوں کو قرار دیتے ہوئے کہا انہیں بات چیت سے مسئلے کو حل کرنا چاہئے ، یہ لوگ نوجوانوں کو شدت پسند بنا رہے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…