منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر، پلوامہ حملے میں مبینہ طورپر شامل عادل احمد ڈار کے ساتھ بھارتی فوج نے ایسا کیا شرمناک سلوک کیاتھا؟ جس کی وجہ سے وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہوا؟افسوسناک انکشافات

datetime 16  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)مقبوضہ کشمیر، پلوامہ حملے میں مبینہ طورپر شامل عادل احمد ڈار کے ساتھ بھارتی فوج نے ایسا کیا شرمناک سلوک کیاتھا؟ جس کی وجہ سے وہ انتہائی اقدام پر مجبور ہوا؟افسوسناک انکشافات، تفصیلات کے مطابق پلوامہ حملہ ، بھارتی پروفیسر نے اپنی ہی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی پروفیسر کا کہنا تھا کہ مودی صرف لاشوں پر سیاست کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو موت کا سودا گر قرار دیا۔

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں بھارتی پروفیسر نے مزید کہا کہ مودی نیانتخابات جیتنے کے لیے 2002ء4 میں گودھرا ٹرین آتشزدگی کے واقعے کی 59 لاشوں کو استعمال کیا اور اب پلوامہ میں ہلاک فوجیوں کی لاشوں کے ساتھ بھی وہی کر رہے ہیں۔اشوک سوائن نے کہا کہ اڑی واقعے پر مودی نے دریائے سندھ کے پانی کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔ پلوامہ واقعہ پر پاکستان کو ذمہ دار کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟ عادل احمد ڈار کیوں پلوامہ میں ہونے والے حملے کا ذمہ دار بنا؟ اس لیے کہ اس کو سکول سے واپسی پر بھارتی فورسزنے زمین پر ناک رگڑوائی تھی۔واضح رہیبھارتی نڑاداشوک سوائین سوئیڈن میں پروگرام آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔دریں اثناء مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پلوامہ میں خودکش حملہ کرنیوالے عادل احمد ڈار کے والد نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کے تشدد اور غیرانسانی رویے نے میرے بیٹے کو شدت پسند بنا دیا۔غلام حسن ڈار نے کہا فوجیوں کے اہلخانہ کی طرح ہم بھی بہت تکلیف میں ہیں، بھارتی فوجیوں نے میرے بیٹے اور اسکے دوستوں کو روکا، انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا، ان پر پتھر پھنکنے کے الزامات لگا دیتے اور ہراساں کرتے تھے ، جس کے باعث اس نے اسلحہ اٹھانے کی ٹھان لی۔عادل کی والدہ فہمیدہ نے بھی اپنے شوہر کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے بتایا کہ فوجیوں کے تشدد کے باعث میرا بیٹا ان سے نفرت کرنے لگ گیا تھا، ہمیں بیٹے کے منصوبے کا علم نہیں تھا، ہمارا بیٹا گزشتہ مارچ کی 19 تاریخ سے غائب ہے ، ہم نے بہت تلاش کیا لیکن بے سود ثابت ہوا۔غلام حسن ڈار نے اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار سیاستدانوں کو قرار دیتے ہوئے کہا انہیں بات چیت سے مسئلے کو حل کرنا چاہئے ، یہ لوگ نوجوانوں کو شدت پسند بنا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…