منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

’’کسی کو پالیسی پسند نہیں تو حکومتی نمائندوں کو ووٹ نہ دیں‘‘ ہائیکورٹ نے حج پالیسی کیخلاف دائر درخواست پر حیران کن فیصلہ سنا دیا

datetime 14  فروری‬‮  2019 |

لاہور(اے این این ) لاہور ہائی کورٹ نے 2019 حج پالیسی کے خلاف دائر درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ انتظامی معاملہ ہے عدالت کیسے مداخلت کر سکتی ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فرخ عرفان خان نے حکومتی حج پالیسی برائے 2019 کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ نجی حج 3 لاکھ 75 ہزار میں کرایا جارہا ہے مگر سرکاری حج کے اخراجات 4 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں جو غریبوں پر بوجھ ہے۔ حکومت نے حج اخراجات میں غیر ضروری اضافہ کیا ہے۔ پرائیویٹ حج آپریٹرز کم قیمت میں حج پیکیج دے رہے ہیں۔درخواست گزار نے استدعا کی کہ حکومت نے حج اخراجات پر سبسڈی نہیں دی۔ عدالت حج پالیسی منظوری کا ریکارڈ طلب کرے۔ پوچھا جائے حج پالیسی میں حج اخراجات میں کس قانون کے تحت اضافہ کیا گیا، عدالت حج پالیسی 2019 پر عمل درآمد روکنے کا حکم دے۔عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیئے کہ حکومت کہتی ہے کہ حج صاحب استطاعت کے لئے فرض ہے۔ حکومت آئین کے تحت پالیسی بنانے میں خود مختار ہے۔عدالت نتظامی معاملات میں کیسے مداخلت کرسکتی ہے۔ اسلام بہت بڑا سوشل آرڈر ہے۔ نماز پڑھانے کے لیے تو کوئی ہمارے پاس رٹ لے کر نہیں آتا۔ اگر آپ کو یہ پالیسی پسند نہیں ہے تو آپ ان کو ووٹ نہ دیں دوسرے کسی کو دے دیں. عدالت نے حج پالیسی کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…