جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

پیپلزپارٹی بھی ن لیگ کی روش پر چل پڑی،پی پی رہنما رضا ربانی نے پاک فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنا دیا، سینٹ میں ایسی تقریر کر ڈالی کہ سب حیران رہ گئے

datetime 21  دسمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق چیئرمین سینٹ اور پی پی رہنما سینیٹر رضا ربانی نےصدارتی خطاب پر سینیٹ میں بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئےکہا ہے کہ چیئرمین نیب کے اختیارات کو کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں ہر ہائیکورٹ میں ایک بینچ بنائیں جو نیب انکوئری کے دوران تشدد کا جائزہ لے، جب ایسا کریں گے تب احتساب مانا جائے گا، آج کے احتساب کو

تسلیم نہیں کیا جارہا، سپریم کورٹ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے صوابدیدی اختیارات کو دیکھیں ورنہ ہم ختم کردیں گے، ہمارے پاس موقع تھا جو ہم نے ضائع کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کہاں بنتی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی پنڈی سے پارلیمنٹ منتقل کی جائے اور پارلیمنٹ خارجہ پالیسی بنائے۔رضا ربانی کا کہنا تھاکہ آج لوگوں کا لاپتا ہونا روز کا معمول ہے، صحافت پر قدغن ہے، ہم خاموش رہے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی اور پارلیمنٹ تاریخ میں بہت بڑی مجرم ہوگی۔پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ ریاست مشرف کو کورٹ نہیں لے جاسکی اور باہر سے واپس نہیں لاسکی، اگر آپ سویلین ہیں تو قانون کا اطلاق الگ ہوگا، ریاست آج ایسی نہج پر کھڑی ہے جہاں کھیل کھیلنا چھوڑ دینا چاہیے، پاکستان کی تاریخ بہت تلخ ہے، سیاسی جماعتوں کو ریموٹ کنٹرول سے چلانے کی کوشش سے نظام بگڑتا گیا، سیاسی جماعتوں کو جبری توڑنے اور فاروڈ بلاک بنانے کا تجربہ ہمیشہ سخت رہا۔رضا ربانی نے مطالبہ کیا کہ احتساب صرف سیاستدان کے لیے نہیں، احتساب ہوگا تو عدلیہ، ملٹری، بیوروکرسی اور ایگزیکٹو کا ہوگا، اگرباقی اداروں کا اپنا احتساب کا قانون ہے تو سیاستدان کا احتساب بھی ان کے ساتھی کریں۔تقریر کے آغاز پر سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کہاں بنتی ہے لہٰذا ہم چاہتے ہیں

کہ خارجہ پالیسی پنڈی سے پارلیمنٹ منتقل کی جائے اور پارلیمنٹ خارجہ پالیسی بنائے۔صدارتی خطاب پر سینیٹ میں بحث کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ہر ادارہ دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں گھس رہا ہے، آئین کے تحت دیے جانے والے اختیارات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، ادارے اور ریاست تب مضبوط ہوتے ہیں جب آئین کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…