اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس نے سینیٹر وقار کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا

datetime 13  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بیرون ملک اکائونٹس کیس، چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو پیپلزپارٹی کے سینیٹر وقار کو گرفتار اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے بنچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکائونٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے سینیٹر وقار کے وکیل سے

استفسار کیا کہ آپ ثابت نہیں کرسکے پیسہ کیسے ملک سے باہرلےکرگئے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے سینٹر وقار کو حکم دیا کہ آپ 6 کروڑروپے جمع کرائیں،وکیل سینٹر وقار نے کہا کہ میرے موکل کی طرف سے جورقم بنتی ہے وہ دینے کیلئے تیارہیں، چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ سینیٹروقارنے ایک ارب روپے پرایمن سٹی لی،سینیٹروقارنے صرف 5 فیصدٹیکس دیا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سینیٹروقارایک ارب روپے کیسے لےکرآئیں؟عدالت نے سینٹر وقار کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا ۔چیف جسٹس نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ سینیٹر وقار کوگرفتارکریں۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سینیٹروقارکانام ای سی ایل میں ڈال دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بادی النظرمیں سینیٹروقارنے دبئی جائیدادمنی لانڈرنگ سے بنائی،لانچزاورہنڈی کے ذریعے پیسہ باہربھجوایاگیا، تفتیش ہوگی توسب پتہ چل جائےگا،ایف بی آرتفتیش کرے گی توپتاچلے گاپیسہ کیسے باہرگیا۔قبل ازیں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے آج مٹھی ہسپتال میں نومولود ہلاکت کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں سندھ حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ تھر کے حالات بہت زیادہ ابتر ہیں اور کہیں پر بھی ایسی صورتحال نہیں، تھر میں بچے نہیں بلونگڑے پیدا ہورہے ہیں، آپریشن تھیٹر میں کوئی سرجن ہے

نہ ادویات، مٹھی میں کوئی ریڈیالوجسٹ نہیں ہے، دو دن کے لئے تھر میں نرسیں اور ڈاکٹر لے کر گئے، چارپائیوں کا عارضی اسپتال بنایا گیا تھا، ہمارے آنے کے بعد سارااسپتال اٹھا لیا گیا۔کہاں ہے انتظامیہ اور حکومت، عدالت کام کرے تو تنقید کی جاتی ہے، تھر کے اسکولوں میں بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا، واش روم بھی نہیں تھا، سمجھ نہیں آئی بچیاں واش روم کے لئے کہاں جاتی ہوں گی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اربوں روپے کا پاور اسٹیشن بن رہا ہے لیکن بچیاں کئی کلومیٹرپانی سر پراٹھا کر چلتی ہیں، آر او پلانٹ سے پانی پی کر خود سارا دن پریشان رہا ہوں، یہ پانی لوگوں کو پینے کے لئے دیا جاتا ہے، مجھے کہا گیا تھا کہ پانی تھوڑا پینا تھا، وزیر اعلی نے تو ایک قطرہ پانی نہیں پیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کسی کو تحفے میں نہیں ملا، کیا ملک کو من مرضی سے چلایا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…