جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

غربت کاخاتمہ صرف مالی امداد سے نہیں ہوسکتا بلکہ یہ کام بھی کئے جائیں،وزیراعظم عمران خان نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت غربت کے خاتمے کوصرف مالی امداد تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ دیگر شعبوں میں اصلاحات اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے ایک پائیدار حل چاہتی ہے،غربت کے خاتمے کیلئے نچلی سطح پر لوکل گورنمنٹ کے نظام کو استعمال کیا جائے تاکہ ضرورتمندوں تک پہنچا جا سکے او ر اخراجات کا ضیاع نہ ہو ،اسٹنٹڈ گروتھ صحت کے شعبے میں سب سے اہم مسئلہ ہے یہ ہمارے بچوں کو ترقی کے مساوی مواقع سے

محروم کردیگا، اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے یہ بات بدھ کو غربت کے خاتمے اوراس سے متعلقہ دیگر اصلاحات کے بارے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔اجلاس میں وزیرخزانہ اسد عمر ، وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ محمد شہزاد ارباب ،چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر،ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی،سی ای او این آر ایس پی ڈاکٹر رشید باجوہ ، سی ای او پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈقاضی عصمت عیسیٰ، سی ای او پاکستان مائیکرو انوسٹمنٹ کمپنی یاسر اشفاق اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔اجلاس میں غربت کے خاتمے اور دیگر متعلقہ اقدامات اور اصلاحات کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ۔جامع اور مربوط حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم کو فنی تعلیم کی ترویج ، روزگار کے مواقع میں اضافہ،مالی امدادتک رسائی،سستی رہائش ،سماجی تحفظ اور صحت انصاف کارڈکے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اسٹنٹڈ گروتھ کی وجہ سے ملکی معیشت کی جی ڈی پی میں سالانہ 3فیصدنقصان اٹھانا پڑتا ہے۔بلوچستان اور سابق فاٹا کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔شرکاء کو بتایا گیا کہ غربت اور اسٹنٹنگ میں براہ راست تعلق ہے۔وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

اسٹنٹڈ گروتھ صحت کے شعبے میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔جو ہمارے بچوں کو ترقی کے مساوی مواقع سے محروم کردے گا۔اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹنٹڈ گروتھ کے حل کیلئے صحت ، تعلیم،خوراک،ماحولیات اوردیگر متعلقہ شعبوں میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت غربت کے خاتمے کوصرف مالی امداد تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ دیگر شعبوں میں اصلاحات اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے ایک پائیدار حل چاہتی ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ غربت کے خاتمے کیلئے نچلی سطح پر لوکل گورنمنٹ کے نظام کو استعمال کیا جائے تاکہ ضرورتمندوں تک پہنچا جا سکے او ر اخراجات کا ضیاع نہ ہو ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…