جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حسن نواز کی برطانیہ میں کتنی کمپنیاں اور کتنے فلیٹس اور پراپرٹیز ہیں؟برطانیہ نے ثبوت دے دیئے،حیرت انگیز انکشافات،نوازشریف کے وکیل نے جواب میں سب کوحیران کردیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خلاف دائر فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت (آج) جمعرات تک کیلئے ملتوی کر دی جبکہ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے وکیل نے تفتیشی افسر کی طرف سے پیش کی گئی تفصیلات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی پیش کی گئی تفصیلات قانون شہادت کے تحت قابل قبول شہادت نہیں ۔بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے سماعت کی تو اس موقع پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے ۔

عدالت میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، راجہ ظفر الحق، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، مریم اورنگزیب ، طارق فاطمی اور آصف کرمانی ،سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال، سابق گورنر کے پی کے سردار مہتاب عباسی بھی موجود تھے۔ سماعت کے دوران محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکیل زبیر خالد کی موجودگی میں نیب کے تفتیشی افسر محمد کامران نے بیان قلمبند کروایا۔ تفتیشی آفسیر نے بتایا کہ ایم ایل اے کے فالو اپ کیلئے برطانیہ گیا،کمپنیز ہاؤس لندن میں حسن نواز کی کمپنیوں کے ریکارڈ کے حصول کیلئے درخواست دی، ریکارڈ کی فراہمی کیلئے ادا کی گئی فیس ضمنی ریفرنس کا حصہ ہے، کمپنیز ہاؤس میں حسن نواز کی 10کمپنیوں کے ریکارڈ کیلئے درخواست دی۔ تفتیشی آفسیر نے حسن نواز کی کمپنیوں کی ملکیتی جائیداد کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔تفتیشی آفسیر نے بتایا کہ حسن نواز کی 18کمپنیوں کے نام 17 فلیٹس اور پراپرٹیز ہیں۔ دوران سماعت محمد نوازشریف کے وکیل نے تفتیشی افسر کی طرف سے پیش کی گئی تفصیلات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی پیش کی گئی تفصیلات قانون شہادت کے تحت قابل قبول شہادت نہیں۔تفتیشی آفسیر نے بتایا کہ 11کمپنیز ہاؤس اور ایچ ایم لینڈ رجسٹری کو متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کی درخواست کی،درخواست پر

اپنا ایڈریس پاکستانی ہائی کمیشن لندن کا دیا،ٹیلی فون کے ذریعے متعلقہ محکموں سے ریکارڈ کے حصول کے لیے پیروی کی، 24اگست 2017 کو ڈائریکٹر نیب راولپنڈی کے ساتھ پاکستانی ہائی کمیشن لندن گیا،کونسل اسسٹنٹ زکی الدین نے راؤ عبدالحنان کے دفتر سے 12 سر بمہر لفافے لا کر دیے،راؤ عبدالحنان پاکستانی ہائی کمیشن میں بطور ویزہ اور کونسل اتاشی فرائض سر انجام دے رہے تھے، ریکارڈ پر مشتمل 12 سربمہر لفافے وصول کیے، ذکی الدین اور فرد مقبوضگی کے گواہوں کا دفعہ 161کا بیان

ریکارڈ کیا۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو جانے کی اجازت دے دی ۔تفتیشی آفسیر نے بتایا کہ کمپنیز ہاؤس سے بھیجے گئے لفافے ویزا اتاشی کے دفتر میں کھولے،راؤ عبدالحنان نے بتایا کہ دستاویزات کی پہلے نوٹری پبلک اور فارم اور کامن ویلتھ سے تصدیق کرانا ضروری ہے،راؤ عبدالحنان نے دستاویزات اسی دن واپس کر دیں۔ تفتیشی آفیسر نے کہا کہ دستاویزات کی تصدیق کے بعد واپس ہائی کمیشن گیا،راؤ عبدالحنان نے دستاویزات تصدیق کے بعد واپس لٹا دیں، تصدیق کے بعد راؤ عبدالحنان کا بیان قلمبند کیا۔ عدالت نے سماعت آج (جمعرات)تک ملتوی کر دی ۔آج بھی تفتیشی آفیسر اپنا بیان جاری رکھیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…