بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کے کس معمولی اقدام سے عافیہ صدیقی کی واپسی ممکن ہوسکتی ہے؟عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا حیرت انگیزانکشاف،اپیل کردی

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کراچی ( این این آئی)قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست میں 5700 دن مکمل ہو گئے ہیں، ان کی امریکی جیل سے رہائی اور وطن واپسی کیلئے اندرون و بیرون ملک جدوجہد اور خصوصی دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے ۔ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ عافیہ نے زندان سے اپنے وزیراعظم کو پکارا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان لبیک کہیں گے؟ وزیراعظم کو صرف ایک دستخط کرنا ہے جس سے عافیہ کی واپسی ممکن ہوسکتی ہے۔ امیدہے

عمران خان کی حکومت یہ کام کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان ڈاکٹر عافیہ کی ماں اور فیملی سے ملیں اور عافیہ کی واپسی کیلئے ان کو پنے اقدامات سے آگاہ کریں۔عافیہ کی والدہ کی صحت اچانک بگڑی ہے۔ کیا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایک مظلوم بیٹی، ایک دکھی ماں اور ایک غمزدہ قوم کی امنگوں کو بحال کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عافیہ کی باعزت وطن واپسی سے عالمی برادری میں پاکستان کا امیج بہتر ہوگا اور عافیہ کی فوری واپسی سے حکومت کی مشکلات میں کمی ہوگی۔ عافیہ موومنٹ ، لکی مروت کے آرگنائزرز انعام اللہ مروت ، انور خان و دیگر نے ڈاکٹر عافیہ کی جلد وطن واپسی اور ان کی والدہ کی صحتیابی کیلئے قرآن خوانی اور خصوصی دعا کی تقریب کا اہتمام کیا ۔عافیہ موومنٹ میڈیا انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ عافیہ نے سابقہ حکومتوں کے بعد اب وزیراعظم عمران خان سے بھی رہائی کی اپیل کی ہے۔میں نے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری صاحبہ سے ملاقات کی تھی جبکہ وزیرخارجہ محمود شاہ قریشی صاحب سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عافیہ کی رہائی کے سلسلے میں ہمارا موقف اور عوام کے جذبات حکمرانوں تک نہیں پہنچائے جارہے تھے۔مجھے لگتا ہے یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے کیونکہ ڈاکٹر عافیہ نے ایک مہینہ قبل پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی سے ملاقات میں وزیراعظم کے نام پیغام بھیجا تھا

جو کہ ایک مہینے بعد کافی کاوشوں کے بعد منظر عام پر آیاہے جو تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ اصل کام کرنے والے ہوتے ہیں ان تک بات پہنچائی ہی نہیں جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملکی مفاد کواولین ترجیح دے کر باوقار طریقہ سے عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کی جدوجہد کی ہے اور یہ جدوجہد ان شاء اللہ عافیہ کی وطن واپس تک اس طرح پرامن، باوقار اور قانون کے دائرے میں جاری رہے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…