جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

طالبان کا 13 لاشوں کے بدلے ایک لاش حوالے کرنے کا مطالبہ،وہو کس کے قاتل کی لاش مانگ رہے ہیں؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

کابل(این این آئی) طالبان نے طاقتور افغان پولیس سربراہ کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے قاتل کی لاش کے لیے ہارس ٹریڈنگ کا راستہ اختیار کرلیا۔فرانسیسی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کے زیر اثر علاقے میں فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد کی لاشوں کے بدلے میں افغان پولیس چیف کے قاتل کی لاش دی جائے۔افغانستان کے شورش زدہ صوبے فراہ میں قبائلی عمائدین تقریباً ایک ہفتے سے لاشوں کے تبادلے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں

اور اب تک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے 25 افراد میں سے صرف 12 کی لاشیں افغان حکومت کے حوالے کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ 31 اکتوبر کو طالبان کے زیر اثر انار درہ ضلع میں فوجی ہیلی کاپٹر کو حادثے میں تباہ ہوگیا تھا اور 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔حکام کی جانب سے اس حادثے کا ذمہ دار خراب موسم کو قرار دیا گیا تھا تاہم طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کے جنگجوؤں نے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا۔طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے ایک واٹس ایپ پیغام میں کہا کہ ہم ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ذریعے ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں لیکن اس شرط پر کہ پولیس کمانڈر عبدالرازق کو قتل کرنے والے جنگجو ذبیح اللہ ابو داجانا کی لاش اس کے اہل خانہ کو دی جائے۔اس حوالے سے فراہ صوبے کے ترجمان ناصر مہری نے بتایا کہ جن افراد کی لاشیں واپس کی گئی ہیں ان میں صوبائی کونسلر جمیلہ امینی، سویلین اور کاروباری افراد شامل تھے، تاہم اب تک کسی فوجی اہلکار کی لاش بازیاب نہیں ہوئی۔فراہ پولیس ترجمان محیب اللہ محیب نے اس بات کی تصدیق کی کہ قبائلی عمائدین کی کوششوں سے 12 لاشوں کو بازیاب کرایا گیا ہے، تاہم باقی لاشیں دشمن کے قبضے میں ہیں۔طالبان کی قید میں جو لاشیں موجود ہیں ان میں افغانستان کے مغربی صوبے کے لیے ڈپٹی آرمی کمانڈر اور فراہ صوبائی کونسل کے سربراہ کی لاشیں بھی شامل ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…