جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

حکومت کی بہترین حکمت عملی ،ججوں کو گالیاں دینے والوں کو انہی کے پاس بھیج دیا،گزشتہ دھرنے اور اس دھرنے میں کیا فرق ہے؟بڑا دعویٰ کردیاگیا

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی) صوبائی وزیرا طلاعات فیاض الحسن چوہا ن نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں اس بات کا عزم ظاہر کیا تھا کہ اس دھرنے میں حکومت اپنی رٹ منوائے گی اور آج پوری دنیا نے دیکھ لیا حکومت نے کس طرح سو فیصد تدبر اور دانشمندی کے ساتھ اپنی رٹ منوائی اور جو لوگ سرعام ججوں کو گالیاں اور دھمکیاں دے رہے تھے ہم نے انہیں واپس انہی جج صاحبان کے پاس بھیجا کہ جائیں اور ان جج صاحبان کے سامنے پیش ہوں،

یہ حکومت کی کامیابی نہیں تو اور کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کچھ لوگوں کی خواہش تھی کہ سانحہ لال مسجد اور فیض آباد دھرنے کی تاریخ دوہرائی جاتی۔ اسی طرح آٹھ بے گناہوں کاخون بہایا جاتا۔ ماڈل ٹان کی طرح 14 معصوموں کو شہید کیا جاتا مگر اللہ کے فضل و کرم سے ایسا کچھ نہیں ہوا اور حکومت نے اپنی دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ معاملہ کو خوش اسلوبی سے نمٹایا۔ فیاض الحسن چوہان نے مذید کہا کہ گزشتہ سال فیض آباد دھرنہ میں سا نقل حکومت نے 24 روز تک کچھ بھی نہیں کیا بلکہ فوج نے عدالت کے حکم پر مداخلت کرکے معاملہ کو نمٹایا تھا جبکہ اس بار عوامی حکومت نے دانشمندی اور کمال تدبر کے ساتھ صرف تین دن میں اپنی رٹ کے مطابق کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ھونے دیا۔ اور پاکستانی قوم کو اس کرب اور تکلیف سے بنا کسی قتل و غارت کے محض تین دن میں نجات دلائی۔ فیاض الحسن چوہا ن نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں اس بات کا عزم ظاہر کیا تھا کہ اس دھرنے میں حکومت اپنی رٹ منوائے گی اور آج پوری دنیا نے دیکھ لیا حکومت نے کس طرح سو فیصد تدبر اور دانشمندی کے ساتھ اپنی رٹ منوائی اور جو لوگ سرعام ججوں کو گالیاں اور دھمکیاں دے رہے تھے ہم نے انہیں واپس انہی جج صاحبان کے پاس بھیجا کہ جائیں اور ان جج صاحبان کے سامنے پیش ہوں،یہ حکومت کی کامیابی نہیں تو اور کیا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…