جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

کوئی رعایت نہیں ہوگی، وفاقی حکومت کا یکم اور 2 نومبر کو ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کا فیصلہ،دھماکہ خیز اعلان

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) وفاقی حکومت نے یکم اور 2 نومبرکو ہنگامہ آرائی کرنے، نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے محنت سے حاصل شدہ املاک کو انتہائی بے دردی سے برباد کیا،

املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔تفصیلات کے مطابق وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کی زیرِ صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ مملکت مواصلات مراد سعید، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی افتخار درانی، ایف آئی اے، پی ٹی اے اور ٹریفک پولیس کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں شناخت میں آنے والے شر پسندوں کی فوری گرفتاریوں کا فیصلہ کیا گیا جب کہ ملک بھر سے جمع توڑ پھوڑ کے شواہد پر کارروائی کی حکمتِ عملی بھی ترتیب دی گئی۔ایف آئی اے، نادرا اور پی ٹی اے سے شر پسندوں کی شناخت پر رپورٹس (آج) پیر تک طلب کی گئیں، اجلاس میں شر پسندوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے وزارتِ دفاع سے بھی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے محنت سے حاصل شدہ املاک کو انتہائی بے دردی سے برباد کیا، املاک کو نقصان پہنچانے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ شر پسندوں کی شناخت اور گرفتاری کے سلسلے میں تعاون کریں۔دریں اثنا وزارتِ داخلہ نے شر پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے چاروں صوبوں کو مراسلہ لکھا، ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے متاثرہ شہریوں سے بھی کہا گیا ہے کہ 5 نومبر کی شام تک حکومت کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔وفاقی حکومت کی ہدایت کی روشنی میں محکمہ داخلہ پنجاب میں سیل قائم کر دیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…