جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

خاندان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے، آسیہ بی بی کے شوہر نےکن تین بڑے ممالک سے سیاسی پناہ کی درخواست کر دی ؟

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی)سپریم کورٹ سے توہین رسالت کے جرم میں بری ہونے والی آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سے پناہ کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حکومت کے تحریک لبیک سے معاہدے کے بعد ان کے خاندان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک ویڈیو پیغام میں عاشق مسیح نے کہا ہے کہ انھیں اپنے خاندان کی سلامتی کے بارے میں تشویش ہے۔میں برطانیہ کے وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری مدد کریں ۔انھوں نے برطانیہ کے علاوہ امریکہ اور کینیڈا سے بھی مدد مانگی ہے۔اس سے پہلے عاشق مسیح نے جرمنی کے خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے کو انٹرویو میں بتایا ک آسیہ بی بی بی کی بریت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو رکوانے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک کے مابین معاہدے کے بعد وہ اور ان کا خاندان خوفزدہ ہے۔عاشق مسیح نے مزید کہا کہ معاہدے سے ان میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور ایسی نظیر قائم کرنا غلط ہے۔ موجودہ صورتحال ہمارے لیے بہت خطرناک ہے۔ ہماری کوئی سکیورٹی نہیں اور ہم یہاں چھپ کر بیٹھے ہیں اور بار بار اپنا ٹھکانہ تبدیل کر رہے ہیں۔آسیہ بی بی کے وکیل کا ملک چھوڑنے کا فیصلہ ،نجی ٹی وی کے مطابق آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کا کہنا ہے کہ میری زندگی کو خطرہ ہے اس لیے میں نے پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔سیف الملوک کا کہنا ہے کہ اگر آرمی انہیں سیکورٹی فراہم کرے تو وہ آسیہ بی بی کیس کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیل میں پاکستان واپس آئیں گے اور آسیہ بی بی کی نمائندگی کریں گے۔آسیہ بی بی کے وکیل کا مزید کہنا ہے کہ میرے اہل خانہ کی جان کو بھی شدید خطرات ہیں اس لیے وفاقی حکومت انہیں سیکورٹی فراہم کرے۔

دریں اثناء یورپ روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے 62 سالہ وکیل کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں میرا پاکستان میں رہنا نا ممکن ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے آسیہ بی بی کے لیے مزید قانونی جنگ لڑنی ہے اور ایسے میں ان کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے۔جب سیف الملوک سے مذہبی جماعتوں کے شور شرابے کے بارے میں بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ حالات بدقسمت ضرور ہیں لیکن غیر متوقع نہیں ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں دکھ کی بات ہماری حکومت کا ردِ عمل ہے جو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے حکم کی تعمیل میں ناکام ہوئی، تاہم انصاف کے لیے جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔آسیہ بی بی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کی موکلہ قید میں رہیں یا پھر زندگی کو لاحق خطرات میں آزاد رہیں، ان کی زندگی اپیل کا فیصلہ آنے تک ایک جیسی ہی رہے گی۔خیال رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے 8 اکتوبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 31 اکتوبر کو سناتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…