پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

سینیٹ کی پنجاب سے خالی دو نشستوں کا حیرت انگیزنتیجہ،کس سیاسی جماعت کے اراکین کامیاب ہونگے؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی پنجاب سے خالی دو نشستوں پر مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک ایک نشست ملنے کا امکان ہے۔ سینیٹ کے ضمنی انتخابات میں ترجیحی فارمولا کے تحت پی ٹی آئی اور نون لیگ کو ایک ایک نشست ملنے کا امکان ہے۔ چاروں امیدواروں کے نام بیلٹ پیپر پر شائع ہوں گے اور اراکین سینیٹ ترجیحی فارمولے کے تحت ووٹ کاسٹ کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو پنجاب میں عددی اکثریت حاصل ہونے کے باعث پہلے نمبر پر ان کا امیدوار ہوسکتا ہے تاہم اپوزیشن کے دونوں امیدواروں میں سے کسی ایک کو حکمران جماعت کے دوسرے امیدوار کے مقابلہ میں ترجیحی ووٹ زیادہ ملنے کا امکان ہے۔مسلم لیگ نون کے امیدواروں نے پی ٹی آئی کے ناراض دھڑوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں اور مسلم لیگ نون کے امیدوار سعود مجید پی ٹی آئی کے ووٹ بھی حاصل کرنے لیے پر امید ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کو سینیٹ کی خالی نشستوں پر کامیابی کا ٹاسک دے دیا ہے جب کہ مسلم لیگ نون بھی پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔سینیٹ کی دو نشستوں کے لئے جنرل نشست پرپی ٹی آئی کے ولید اقبال اور مسلم لیگ نون کے سعود مجید میں مقابلہ ہو گا جب کہ خواتین کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ نون کی سارا افضل تارڈ اور پی ٹی آئی کی سیمی ایزدی مد مقابل ہوں گی۔حکمراں جماعت پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نون کے چاروں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کر دیے گئے ہیں جب کہ سینیٹ انتخاب کے فارمولے کے تحت چاروں امیدواروں کے لئے پنجاب اسمبلی میں ہی پولنگ ہوگی۔مسلم لیگ نون کے ہارون اختر اور سعدیہ خاقان عباسی کی نااہلی کے باعث سینیٹ کی پنجاب سے خالی دونشستوں پر ضمنی انتخاب 15 نومبر کو ہو گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…