پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’جیو نیوز‘چھوڑ کر جانیوالے حامد میر اور کامران خان نے بڑا سرپرائز دیدیا اب دوبارہ کس چینل کو جوائن کر لیا ہے؟بڑی خبر آگئی

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی ’بول نیوز‘پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی سمیع ابراہیم نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ معروف صحافی کامران خان جو کہ ’دنیا نیوز‘پر پروگرام کرتے تھے وہ اب دوبارہ ’جیو نیوز‘سے وابستہ ہو گئے ہیں اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ شاہزیب خانزادہ 8بجے شو کیاکرینگے اور کامران خان 10بجے شو کیا کرینگے۔

سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے برطرف کئے گئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنے متنازع خطاب میں کہا تھا کہ مجھ پر فیصلوں کیلئے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔اگر ہمارا چینل ایجنسیوں کا چینل تھا تو ان سب بڑے صحافتی نام جو کہ شروع میں ہمارے چینل سے وابستہ ہو چکے تھے کو ہمارے چینل سے دیگر چینلز میں کون لے کر گیا تھا۔ اگر ’بول‘ایجنسی کا چینل تھا ، اس کو کوئی ایجنسی فنڈ کر رہی تھی ، آئی ایس آئی فنڈ کر رہی تھی تو یہ جو اتنے بڑے بڑے نام ہمیں چھوڑ کر چلے گئے جن میں کامران خان ، اظہر عباس، کامران شاہد، عاصمہ شیرازی اور بھی بہت بڑے بڑے نام تھے جو ’بول‘چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ آپ کسی بھی بڑے صحافی کا نام لیں وہ ’بول ‘سے وابستہ ہو چکا تھا اور پھر چھوڑ کر چلے گئے، اور اگر شوکت عزیز صدیقی کی بات کو مان لیا جائے تو کیا ان سب کو ایجنسی لیکر گئی تھی۔ دعویٰ تو یہ کیا گیا تھا کہ یہ چینل ایجنسی کا چینل ہے۔ اس موقع پر سمیع ابراہیم نے مزید انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ منیب فاروق اور شاہزیب خانزادہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میںکہا ہے کہ ملک کے معروف صحافی حامد میر بھی جی این این چھوڑ کر دوبارہ جیو نیوز میں چلے گئے ہیںاور یہ بات پروگرام کے دوران کنفرم بھی کی گئی ۔ آپ کسی بھی بڑے صحافی کا نام لیں وہ ’بول ‘سے وابستہ ہو چکا تھا اور پھر چھوڑ کر چلے گئے، اور اگر شوکت عزیز صدیقی کی بات کو مان لیا جائے تو کیا ان سب کو ایجنسی لیکر گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…